عراق میں داعش کی بھرتی ہوئیں کاروائیاں،اہم مقدس مقامات پر حملے کو ناکام بنا دیا گیا


عراق میں داعش کی بھرتی ہوئیں کاروائیاں،اہم مقدس مقامات پر حملے کو ناکام بنا دیا گیا
اُردو آفیشل۔ عراقی انٹیلیجنس نے کہاہے کہ ملک میں دنیا بھر کے شیعہ مسلمانوں کے لیے انتہائی مقدس مذہبی مقامات پر حملوں کا داعش کا ایک منصوبہ ناکام بنا دیا گیا۔ منصوبے کے تحت کئی مزارات اور ایک شیعہ مذہبی رہنما کو نشانہ بنایا جانا تھا۔میڈیارپورٹس کے مطابق مشرق وسطیٰ کی برسوں سے داخلی بدامنی کی شکار اس ریاست میں ملکی خفیہ ادارے کے دو اعلیٰ اہلکاروں نے بتایا کہ عراق اور شام کے کئی علاقوں پر ابھی تک قابض خود کو سنی قرار دینے والے شدت پسندوں کی تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش نے منصوبہ بنایا تھا کہ وہ اپنی اب تک کی حکمت عملی کو جاری رکھتے ہوئے عراق میں خاص طور پر شیعہ مسلمانوں کے لیے انتہائی مقدس مقامات کو اپنے حملوں کا نشانہ بنائے گی۔

عراقی انٹیلیجنس کے ان دونوں اعلیٰ اہلکاروں نے اپنے نام خفیہ رکھے جانے کی شرط پر بتایاکہ داعش کربلا اور نجف میں انتہائی مقدس اسلامی مزارات اور عراقی شیعہ مذہبی رہنما آیت اللہ عظمیٰ علی السیستانی کے گھر پر یکے بعد دیگرے خود کش حملے کرنا چاہتی تھی،ان دونوں عراقی اہلکاروں نے اس منصوبے کی ناکامی کا ذکر کرتے ہوئے عراقی فضائیہ اور روسی ایئر فورس کے تقریبا بیک وقت کیے جانے والے ان بڑے فضائی حملوں کا حوالہ دیا، جو دو ہفتے قبل کیے گئے تھے۔ان حملوں میں عراقی فضائیہ نے عراق میں القائم کے قصبے اور روسی ایئر فورس نے شامی شہر المیادین اور اس کے قریبی علاقوں میں ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے خود کش حملہ آوروں کے ان دو اجتماعات کو نشانہ بنایا تھا، جو مبینہ طور پر کچھ ہی عرصے بعد اپنے اہداف کی طرف نکلنے والے تھے۔ان انٹیلیجنس افسران نے ان دونوں فضائی کارروائیوں میں مارے جانے والے داعش کے جہادیوں کی تعداد کے بارے میں کچھ بھی بتانے سے انکار کر دیا۔ عراق میں القائم کا قصبہ اور شام میں المیادین کا شہر دونوں ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے شدت پسندوں کے کنٹرول میں ہیں۔

You cannot copy content of this page