اسلامی جمہوریہ پاکستان کے 13 ویں صدر ڈاکٹر عارف علوی نے قوم سے بڑا وعدہ کر لیا، بڑی خوشخبری سنا دی گئی


تحریک انصاف کے رہنما ڈاکٹر عارف علوی اسلامی جمہوریہ پاکستان کے 13 ویں صدر منتخب ہوگئے. تحریک انصاف کو ہر طرف سے مبارکباد موصول، قوم خوشی سے جھوم اٹھی.

صدر مملک کے عہدے کے لیے تحریک انصاف کے ڈاکٹر عارف علوی، پیپلز پارٹی کے اعتزاز احسن اور 4 اپوزیشن جماعتوں (مسلم لیگ (ن)، عوامی نیشنل پارٹی، متحدہ مجلس عمل اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی) کے مشترکہ امیدوار مولانا فضل الرحمان کے درمیان مقابلہ تھا۔ صدارتی انتخاب کے لیے پارلیمنٹ میں 432 میں سے 424 ووٹ کاسٹ ہوئے اور 6 ووٹ مسترد اور دو ارکان نے اپنا حق رائے دہی استعمال نہیں کیا، عارف علوی نے 212، مولانا فضل الرحمان نے 131 اور اعتزاز احسن نے 81 ووٹ حاصل کیے۔

صدارتی انتخاب کے لیے پولنگ کا آغاز صبح 10 بجے ہوا جو شام 4 بجے تک بلاتعطل جاری رہا، وزیراعظم عمران خان پولنگ کا وقت ختم ہونے کے آخری گھنٹے میں اسمبلی ہال پہنچے اور اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔ دو صدارتی امیدوار اعتزاز احسن اور مولانا فضل الرحمان اسمبلی یا سینیٹ کے رکن نہ ہونے کی وجہ سے خود کو ووٹ نہیں ڈال سکے اور صرف عارف علوی نے رکن قومی اسمبلی کی حیثیت سے ووٹ کاسٹ کیا۔

صدر منتخب ہونے کے بعد ڈاکٹر عارف علوی نے مختصر سی میڈیا ٹاک کی. اپنی بات بسم الله سے شروع کرتے هوئے ڈاکٹر عارف علوی نے سب سے پہلے تحریک انصاف کے ورکرز، کارکنان، اور ووٹرز کا شکریہ ادا کیا. عارف علوی کا کہنا تھا کہ آج میں صدر صرف آپ لوگوں کی بدولت منتخب ہوا ہوں. تحریک انصاف کو کامیابی دلوانے کے لیے جس طرح کارکنان اور ورکرز نے ہمارا ساتھ دیا اور اپنی جانیں تک قربان کر دیں، میں ان سب لوگوں کا دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں. ڈاکٹر عارف علوی نے اتحادی جماعتوں اور آزاد امیدواروں کا بھی دلی شکریہ ادا کیا.

نو منتخب صدر ڈاکٹر عارف علوی نے قوم سے وعدہ کیا کہ وہ پاکستان کو ترقی یافتہ اور خوشحال بنانے کے لیے بھرپور جدو جہد کریں گیں. ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان میں غریب کی قسمت بدلے، غریب کو انصاف ملے، غریب کے بدن پر کپڑا ہو، غریب کے سر پر چھت ہو، اور غریب پیٹ بھر کے کھانا کھائے، میرے سے جتنا ہو سکا میں کروں گا اور اپنی پوری زندگی غریب عوام کو انصاف صحت تعلیم اور روزگار دلوانے میں وقف کر دونگا اور جب مر بھی جاؤں گا تو الله کا شکر ادا کروں گا کہ اسنے مجھے میری قوم کی خدمت کرنے کا موقع دیا.

عارف علوی نے مزید کہا کہ میں صرف تحریک انصاف کا صدر نہیں، بلکہ میں ساری قوم اور اپوزیشن جماعتوں کا صدر ہوں. قوم اب جس انداز سے جاگی ہے اس سے صاف پتا چلتا ہے کہ اب قوم کرپشن کا خاتمہ اور ملک میں صحت، انصاف، تعلیم، اور اچھا روزگار چاہتی ہے. میں بطور صدر پاکستان اپنی قوم سے وعدہ کرتا ہوں کے پاکستان کے لیے اچھا کام کرونگا اور اس قوم کو دنیا کی ترقی یافتہ قوم بناؤں گا.

عارف علوی نے وزیر اعظم عمران خان کا بھی بھرپور شکریہ ادا کیا اور کہا کہ میں خان صاحب کا مشکور ہوں کہ انھوں نے مجھے اس عہدے کے لیے نامزد کیا. عارف علوی نے بتایا کہ انھوں نے 1959 میں پاکستانی سیاست میں حصّہ لیا اور انکی یہ جدو جہد ایوب خان کے دور سے چلتی آرہی ہے.

ایک صحافی نے جب پوچھا کہ کیا آپ پروٹوکول لیں گیں؟ تو ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ میں پروٹوکول ہر گز نہیں لوں گا. عارف علوی نے اپنی اس بات کے ساتھ حضرت عمر فاروق (رضہ) کی مثال دیتے هوئے کہا کہ وہ ایک اونٹ پر یروشلم گئے تھے، البتہ ہم ہر گز حضرت عمر فاروق جیسے نہیں ہوسکتے لیکن ہماری کوشش یہی رہے گی کہ پروٹوکول نہ لیا جائے اور سیکورٹی بھی کم سے کم لی جائے. ایک اور صحافی نے جب پوچھا کہ آپ بطور صدر پاکستان صدارتی محل میں رہیں گیں؟ عارف علوی نے مزاخیہ انداز میں کہا ارے بھائی ابھی تو میں پارلیمنٹ لاجز میں ہی رہوں گا.