ایک فقیر کو کھانا نہ دینے کی سزاء! عبرتناک واقعہ


آج جو واقعہ ہم آپکو بتانے جارہے ہیں اس سے یہ سبق حاصل ہوتا ہے کہ کبھی اپنے طاقتور اور مالدار ہونے کا غرور نہیں کرنا چاہیے کیونکہ غرور کا سر ہمیشہ نیچا ہوتا ہے. اور جو کسی ضرورت مند کی مدد نہیں کرتا، الله تعالى بھی اسکو اپنا دوست نہیں مانتا.

ایک دفعہ کا ذکر ایک بہت بڑا رئیس اپنی بیوی کے ہمراہ دسترخوان پر بیٹھا کھانا کھارہا تھا. دسترخوان دنیا کی انواع و اقسام کی نعمتوں سے سجا ہوتا تھا. اتنے میں ایک فقیر نے دروازے پر یہ صدا لگائی کہ الله کے نام پر کچھ کھانے کو ہے تو دے دو، کافی دنوں سے بھوکا ہوں. اس شخص نے اپنی بیگم کو حکم دیا کہ سارا کا سارا دسترخوان اٹھا کر اس فقیر کی جھولی میں ڈال دو. اسکی بیوی نے بلکل ایسا ہی کیا، ساری پکوان پیک کر کے فقیر کو دے دیے. جس وقت اس فقیر کی نظر عورت کے چہرے پر پڑی تو وہ باآوازے بلند زاروقطار رونے لگا.

جب اس عورت کے شوہر نے فقیر کے رونے کی وجہ پوچھی، تو عورت نے بتایا کہ یہ جو فقیر ہمارے دروازے پر آیا ہے یہ میرا سابقہ شوہر تھا اور چند سال پہلے یہ اس شہر کا مالدار ترین آدمی اور اس کوٹھی کا مالک تھا. چند سال پہلے کی بات ہے کہ ہم دونوں اسی طرح دسترخوان پر بیٹھے کھانا کھارہے تھے کہ ایک فقیر نے صدا لگائی کہ الله کے نام پر کچھ کھانے کو دے دو. بہت بھوک لگی ہے. یہ شخص دسترخوان سے اٹھا اور باہر جاکر فقیر کی اس قدر پٹائی لگائی کہ وہ فقیر بیچارا لہو لہاں ہو گیا. معلوم نہیں اس فقیر نے کیا بدعا دی کہ حالات دن بہ دن خراب ہوتے چلے گئے، کاروبار ٹھپ ہوگئے، گھر بک گیا، اور ہم کوڑی کوڑی کے محتاج ہو گئے. اس شخص نے مجھے بھی طلاق دے دی. اسکے چند سال گزرنے کے بعد میں آپ کی زوجیت میں آگئی.

شوہر بیوی سے یہ عبرتناک دردناک قصہ سن کر اداس ہو گیا اور کہنے لگا بیگم کیا تمہیں یہ معلوم ہے کہ وہ فقیر میں تھا. بیوی بہت حیران ہوئی. الله کا یہ کیسا کرنا ہوا کہ اس ظالم شخص کی ایک ایک چیز الله نے ماضی کے بیچارے فقیر کو دے دی تھی یعنی مال، کوٹھی، گاڑی، حتی کہ بیوی بھی چھین کر اس فقیر کی جھولی میں ڈال دی تھی. تاریخ ایسے عبرت آموز واقعات سے بھری پڑی ہے، پس انسان کو چاہیے کہ ان واقعات سے عبرت حاصل کرے کیونکہ یہ سب چیزیں الله کی عطا کرداں ہیں.