باپ لاجواب ہو کر بیٹے کا منہ تکتا رہ گیا


جمعہ کی نماز پڑھ کر باپ گھر میں داخل ہوا تو پانچ سالہ بچہ بھاگ کر ٹانگوں سے لپٹ گیا. باپ نے اٹھا کر سینے سے لگایا، ماتھا چوما اور بچے کو گود میں لیے صوفے پر بیٹھ گیا .
بیٹا لاڈ میں آکر بولا . پاپا جی آپ کام پر مت جایا کریں سارا دن میرے پاس رہا کریں ہم دونوں کھیلا کریں گے . مما میرے ساتھ نہیں کھیلتی وہ بھی سارا دن کام کرتی رہتی ہیں .باپ نے کہا بیٹا کام پر تو جانا پڑے گا کیونکہ اگر میں کام پر نہیں گیا تو پیسے نہیں ملیں گے اور اگر پیسے نہ ملے تو آپ کے لیے اچھی اچھی چیزیں اور کھلونے کہاں سے لاؤں گا . بیٹا یہ بات سن کر سوچ میں پڑ گیا اور تھوڑی دیر بعد خوش ہوتے ہوئے بولا . پاپا آپ ایسا کرو پورے ہفتے میں صرف ایک دن کام پر چلے جایا کرو اور باقی دن میرے ساتھ کھیلا کرو. آپ کو پیسے بھی مل جایا کریں گے اور ہم کھیل بھی لیا کریں گے باپ نے پھر سمجھانے کے لیے کہا . بیٹا اگر میں ہفتے میں ایک دن کام پر گیا تو وہ مجھے نکال دیں گے ، وہ مجھے روز کام کے لیے بلاتے ہیں اس لیے مجھےروز جانا پڑتا ہے ، جیسے آپ سارا ہفتہ سکول جاتے ہیں اگر آپ بھی ہفتے میں ایک دن سکول جاؤ گے تو وہ بھی آپ کو نکال دیں گے نا . بچے نے اثبات میں سر ہلایا اور پھر تھوڑی دیر بعد کچھ سوچ کر کہنے لگا”پاپا ایک بات کہوں آپ نماز پڑھنے تو بھی صرف جمعہ کو ہی جاتے ہیں باقی دن نہیں جاتے تو اللہ آپ کو اپنے گھر سے کیوں نہیں نکالتا . باپ لاجواب ہو کر بیٹے کا منہ تکتا رہ گیا . سوچیں اگر اللہ نے ہمیں اپنے گھر سے نکال دیا تو پھر ؟
..