مرد کی حقیقت

آج خلاف معمول آفس کے لیے جلدی نکل آئی تو سوچا کیوں نہ پاکستانی کمیونٹی سنٹر سے ہو آؤں، سنٹر کے اندر اچھی خاصی ٹھنڈ تھی لیکن باہر دھوپ بہت چمکیلی تھی تو سوچا جو مرد حضرات پر تحریر لکھ رہی ہوں کیوں نا اسے یہیں دھوپ میں بیٹھ کر پورا کر لیا جاۓ ..لہٰذا میں ایک کونے میں بیٹھ کر لکھنے لگ گئیمرد کی حقیقت اور اصل چہرے کو عورت کے علاوہ کوئی نہیں جان سکتا ابھی اتنا ہی لکھ پائی تھی کہ کچھ لڑکیاں باتیں کرتیں پیچھے آ کر بیٹھ گئیں. نہیں وہ اکثرآتے جاتے مجھے بہت غور سے دیکھتا تھا ..ایک کچھ بتا رہی تھی اور دوسری ہمہ تن گوش تھیں“غالبا وہ تین تھی یا شاید چار میں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا تھا ..میں نے اپنی توجہ لکھنے پر کیمرد بہت بے باک ہوتے ہیں باک ہوتے ہیں ہمیشہ اپنا مفاد ہی ..”اور اس دن جب کینٹین پر میں جوس لینے گئی تو سب جوس ختم ہو گئے تھے اپنا ہاتھ آ گے بڑھا کر کینٹین والے کو کہتا یہ دے دیں حالانکہ اس نے پیسے بھی دے دیے تھے “توجہ پھر پیچھے چلی گئی جسے میں کھینچ کر صفحے پر لائیعورت کی معصومیت سے کھیلنا ازل سے مرد کا مشغلہ رہا ہے …مرد جتنا لالچی… اور آج کی سب سے مزے کی بات بتاتی ہوں ناآواز زبردستی میرے کانوں میں گھسی ..آج گیلری میں کوئی بھی نہیں تھا جب میں پاس سے گزری تو اس نے میرا ہاتھ پکڑ لیااففففف ہاتھ پکڑ لیا ؟؟؟تم نے کَس کے تھپڑ لگانا تھا اس کے منہ پر .ان میں سے ایک بولی …ہاہاہا میں مار تو دیتی یار اگر میں نے اس کی پجارو نا دیکھی ہوتی تو پتا ہے کتنے امیر باپ کا بیٹا ہے …بس اب تھوڑا سا اور نخرہ کروں گی اور پھر ہاہاہاہاوہ ہاتھ پر ہاتھ مار کر ہنسیںاوہواہوہ سب اسے داد دے رہیں تھیںاب تو عیش ہونے والے ہیں ….ایک بولیدوسری بولیہاں نا مفت کے عیش …میں نے تحریر پر نگاہ ڈالیایک ہی جگہ قلم کے رکے رہنے سے صفحے میں چھید ہو گیا تھا میری تحریر ادھوری رہ گئ

..