بدعت کا ارتکاب ڈاکو بھی نہیں کرتا

شہور مالکی عالم ابن ماجشون کے پاس ان کا ایک ساتھی آ کر کہنے لگا، اے ابو مروان! آج ایک عجیب قصہ پیش آیا، میں جنگل میں واقع اپنے باغ کی طرف جانے کے لئے نکلا کہ اچانک ایک شخص میرے سامنے آ دھمکا اور کہنے لگا ’’اپنے کپڑے اتار دو‘‘ میں نے کہا کیوں؟ کہنے لگا ’’اس لئے کہ میں تمہارا بھائی ہوں اور میں ننگا ہوں‘‘میں نے کہا ’’یہ کیسی بھائی بندی ہے؟‘‘ کہنے لگا ’’تم ایک مدت تک ان کپڑوں کو پہنچ چکے ہو، اب میری باری ہے‘‘. میں نے کہا ’’کیا تم مجھے برہنہ کرنا چاہتے ہو؟‘‘ کہنے لگا ’’میں امام مالکؒ سے روایت پہنچی ہے کہ برہنہ حالت میں غسل کرنے میں کوئی حرج نہیں اور آپ غسل کرنے جا رہے ہیں‘‘.

میں نے کہا ’’تم مجھے لوگوں کے سامنے برہنہ کرنا چاہتے ہو؟‘‘ کہنے لگا ’’اگر یہاں کسی کے آنے کا امکان ہوتا تو میں اس طرح تمہارے گلے نہ پڑتا‘‘. میں نے کہا ’’اچھا مجھے باغ میں تو جانے دو میں تمہارے لئے کپڑے بھجواتا ہوں‘‘ کہنے لگا ’’ہرگز نہیں، کیا تم اپنے غلاموں کو بھیج کر مجھے گرفتار کروانا چاہتے ہو؟‘‘ میں نے کہا ’’میں قسم کھاتا ہوں‘‘ وہ کہنے لگا تمہاری قسم کسی ڈاکو کے لئے باعث اطمینان نہیں بن سکتی. میں نے قسم کھا کر کہا کہ میں ضرور بھیجوں گا اور اپنی خوشی سے بھیجوں گا وہ کچھ دیر خاموش رہا پھر بولا، میں نے عہد رسالت سے لے کر آج تک کے ڈاکوؤں کے بارے میں بڑی سوچ بچار کی مگر مجھے ایسا کوئی ڈاکو نہیں ملا جس نے ادھار کا معاملہ کیا ہو لہٰذا میں نہیں چاہتا کہ میں اس بدعت کا ارتکاب کروں‘‘. اس کی یہ دلیل سن کر بادل نخواستہ میں نے کپڑے اتار کر اس کے حوالے کر دیئے.
..