جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا

مغرب میں خاندانی زندگی کی تباہی کا اندازہ اس واقعہ سے بھی ہوتا ہے کہ پیرس میں ایک شخص کسی دوسرے شخص سے ملنے اس کے گھر گیا، اس نے دیکھا کہ مکان کی سیڑھیوں پر ایک جوان لڑکی بیٹھی زار و قطار رو رہی ہے،اس شخص نے رک کر لڑکی سے رونے کی وجہ معلوم کی تو اس نے جواب دیا کہ جس شخص سے آپ مل کر آ رہے ہیں، وہ میرا باپ ہے، میں اس کے پاس اس مکان کا ایک کمرہ کرائے پر لینے آئی تھی، لیکن اس نے مجھے یہ کہہ کر کمرہ کرائے پر دینے سے انکار کر دیا ہے کہ ایک دوسری جگہ سے اسے زیادہ کرایہ مل رہا ہے، اس لئے وہ مجھے کمرہ کرایہ پر نہیں دے گا، لڑکی نے ہچکیاں لیتے ہوئے کہا، اب میں کیا کروں اور کہاں جاؤں؟پولینڈ میں ایک بوڑھا اپنی بیٹی کے گھر آیا اور وہاں ٹھہرنے کی خواہش ظاہر کی، مگر بیٹی نے انکار کر دیا اور بوڑھے کے اصرار پر اسے ڈنڈے مار مار کر گھر سے باہر نکالا، شور سن کر لوگ جمع ہوئے تو بیٹی نے بتایا کہ کچھ عرصہ پہلے مجھے رقم کی ضرورت پڑی تو میرے باپ نے باقاعدہ شرح سود طے کر مجھے رقم دی اور اصل زر کے ساتھ سود بھی وصول کیا، پھر میں اسے اپنے گھر کیوں ٹھہراتی‘‘.