مر جاؤں تو میں کہاں جاؤں گا

نوبت کا دربار ذی وقار سجا ہوا ہے کہ ایک بدو اپنی اونٹنی سے اترا۔ قدم غبار آلود۔ بال پریشان، کپڑے گرو و غبار میں اٹے ہوئے۔ چہرے پر تکان ہے۔ اونٹنی دروازے پر باندھی اور دربار نبوت میں حاضر ہو گیا۔ اسے اپنی لا علمی کا احساس بھی ہے اور احساس زیاں الگ دامن گیر۔ شرماتے شرماتے عرض کیا۔یا رسول اللہ ﷺ !میں صرف رمضان کے روزے رکھتا ہوں ان کے علاوہ نفلی روزے نہیں رکھتا۔یہی حال نمازوں کا ہے کہ بس پانچ وقت کی نماز پڑھتا ہوںان کے علاوہ نماز بھی نہیں پڑھتا۔میرے پاس اتنا مال نہیں کہ

زکوٰۃ واجب ہو نہ زاد راہ ہے کہ حج فرض ہوتا۔ آپ مجھے صرف اتنا بتا دیں کہ اگر اس حال میں مر جاؤں تو میں کہاں جاؤں گا؟جنت میں کہ دوزخ میں؟ حضور ﷺ اس کی بات سن کر مسکرا اٹھے اور ارشاد فرمایا کہ اگر تو اپنے دل کو کینہ اور حسد سے زبان کو غیبت اور جھوٹ سے اور نگاہ کو غیر محرم پر ڈالنے اور لوگوں کے عیوب کو تلاش کرنے سے بچائے رکھے تو یقین رکھ کہ تو اپنے انہی تھوڑے سے اعمال کی بنیاد پر میرے ساتھ جنت میں داخل ہو گا۔