’’ ایشیا کا بل گیٹس‘‘


ملک ریاض کا شمار پاکستان ہی نہیں ایشیا کے امیر ترین افراد میں ہوتا ہے، آپ کو ایشیا کا بل گیٹس بھی کہا جاتا ہے۔ فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے پر آپ کو لندن میں سروس

ٹو ہیومنٹی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ان کی پیدائش 8فروری 1954سیالکوٹ پاکستان میں ہوئی، قومیت کے اعتبار سے اعوان برادری سے تعلق ہے۔ کنسٹرکشن کے پیشہ سے وابستہ ہیںاور

پاکستان کی سب سے بڑی کنسٹرکشن کمپنی کے مالک ہیں ۔ فلاحی کاموں میں بھی مصروف رہتے ہیں، قدرتی آفات کے دوران امدادی کارروائی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں مگر وہ

شروع سے ہی اتنے امیر کبیر نہ تھے ۔ ان کا ماضی انتہائی محنت اور مشقت سے عبارت ہے ، انہوں نے انتہائی غربت بھی دیکھی ۔ آج ان کے پاس اتنی دولت کیسے آئی ۔ اس دولت کو وہ

دولت کو وہ رب کا فضل قرار دیتے ہیں اور تین اعمال کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ وہ اپنے انتہائی مشکلات سے دوچار ماضی کا ذکر کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ میری چار بیٹیاں اور ایک بیٹا

ہے۔ غربت کے دنوں میں ایک بار میری سب سے بڑی بیٹی بیمار ہو گئی اور اس وقت میرے پاس اتنا پیسہ بھی نہیں تھا کہ میں اسے ڈاکٹر کے پاس لے جانے کیلئے ٹیکسی ، رکشہ کا

کرایہ بھی ادا کر سکوں۔میں اس وقت راولپنڈی میں رہتا تھا۔میں راولپنڈی کے اس وقت کے سینٹرل ہاسپٹل اور آج کے بینظیر بھٹو ہسپتال میں بیٹی کو علاج کی غرض سے لے کر گیا۔

جس رکشہ میں بیٹی کو ہسپتال لے کر گیا اس رکشہ کا کرایہ
ادا کرنے کیلئے جیب میں پیسے نہ تھے، بیٹی کا چیک اپ کروا کر جب اسی رکشہ میں واپس

دلچسپ عنوان
  رزق کی تنگی سے پریشان ہیں تو بس اس ایک اسمِ اعظم کا وظیفہ کریں ۔۔ دولت اتنی ملے گی کہ سنبھالنا مشکل ہو جائے گا

گھر لوٹا تو گھر سے کچھ قیمتی سامان اٹھا کر اسی رکشہ میں رکھا اور بازار میں جا کر بیچ کر بیٹی کی دوائیاں خریدیں اور رکشے کا کرایہ ادا کیا۔آج میرا ذکر پاکستان کے امیر ترین

افراد میں کیا جاتا ہےجو اللہ تعالیٰ کی خاص عطا اور فضل کی بدولت ہی ممکن ہے۔سعودی عرب میں ایک فوڈ کمپنی جس کا نام ’’لبیک ‘‘ہےاس کے مالک بھی ملک ریاض کی طرح یہ

تین عمل کرتے ہیں۔ اس عمل سے قبل انہیں بالکل بھی امید نہ تھی کہ ان کا کاروبار اتنے عروج پر جائے گا اور آج پورے سعودی عرب میں سب سے زیادہ بڑی فوڈ کمپنی’’لبیک‘‘ہے۔ ’’لبیک‘‘کے مالک بھی

اپنی دولت کا رازانہیں تین چیزوں کو بتاتے ہیں۔ملک ریاض بتاتے ہیں کہ قرض کے لغوی معنی ہیں کاٹنا یعنی اپنے مال کا ایک حصہ کاٹ کر اللہ کے راستے میں دیتا ہوں یعنی ’’اللہ پاک

کو قرض دیتا ہوں‘‘جس پر اللہ تعالیٰ بدلے میں اس سے کئی گنا زیادہ بدلے میں عطا کر دیتے ہیں۔میں محتاج افراد کی مدد کرتا ہوں جس سے میرے مال میں کبھی کمی واقع نہیں ہوتی بلکہ

اللہ پاک کی رضا کیلئےجو مال مسکینوں، غریبوںاور ضرورت مندوں کو دیتا ہوںاس میں اللہ پاک کئی گنا زیادہ اضافہ فرما دیتے ہیں جبکہ اللہ کا وعدہ ہے کہ آخرت میں بھی اس کا صلہ

ملے گا یعنی میں دنیاوی اور اخروی دونوں طرح کے فائدوں سے نوازا جا رہاہوں اور جائوں گا۔ بے شک آپ کے پاس زیادہ مال و دولت نہ بھی ہو جتنا بھی اس کا ایک حصہ اپنی مرضی سے اللہ پاک کے راستے میں خرچ کرنے کیلئے

دلچسپ عنوان
  شدّاد کی جنت

وقف کر لیں۔میرا دوسرا عمل یہ ہے کہ میں اللہ کے گھر مساجد تعمیر کرتا ہوں ،مساجد کی تعمیر میں میں نے کبھی بھی مال و دولت کی پرواہ نہیں کی اس کی تعمیر ، تزئین و آرائش،

نمازیوں کی سہولیات کیلئے دل کھول کر خرچ کرتا ہوں جس کی بدولت اللہ تعالیٰ میرے مال و دولت میں اضافہ کرتے ہیں۔ تیسرا عمل یہ ہے کہ میں چاہے سفر میں ہوں یا کہیں بھی

مـصروف ہوں میں اللہ کے ذکر کیلئے وقت ضرور نکالتا ہوںاور اللہ کا ذکر کرتا ہوں۔ملک ریاض بتاتے ہیں کہ میں چار ذکر کئے بغیر اپنے دن کا آغاز نہیں کرتا یہ ذکر صحیح احادیث سے

ثابت ہیں جن میں’’ 100مرتبہ سبحان اللہ، 100مرتبہ الحمد اللہ ، 100مرتبہ اللہ اکبر اور 100مرتبہ لا الہ الا اللہ ‘‘ہیں۔100مرتبہ سبحان اللہ پڑھنے سے مجھے 100غلام آزاد کرنے

کا ثواب مل جاتا ہے، 100مرتبہ الحمد اللہ پڑھنے سے میرے لئےجنت میں 100گھوڑے رکھ دئیے جاتے ہیں،100مرتبہ اللہ اکبر پڑھنے سے 100اونٹ اللہ کے راستے میں قربان کرنے

کا ثواب مل جاتا ہے جبکہ 100مرتبہ لا الہ الا اللہ پڑھنے سے زمین و آسمان کے درمیان میری لئے نیکیاں بھر دی جاتی ہیں۔یہ وہ تین اعمال ہیں جن کی بدولت اللہ رب العزت نے مجھے نواز رکھا ہے۔