ایک لڑکی کی کہانی جس نے ایسا خواب دیکھ لیا کہ خواب پورے کرتے کرتے وہ طوائف بن گئی

خواب دیکھنا جرم نہیں ہے لیکن کبھی کبھی یہ ہمیں ایسی جگہ پہنچا دیتے ہیں جہاں سے واپسی کا رستہ دکھائی بھی دے تو اُس پر چلنا ممکن نہیں رہتا۔یورپ جانے کے خواب دیکھنے والے ہزاروں افریقی نائجیریا کے آغادیس نامی شہر میں پھنسے ہوئے ہیں۔اس شہر کو صحارا کا دروازہ بھی کہا جاتا ہے۔

بی بی سی کے ٹامس فزےآغادیس گئے اور ان پھنسے ہوئے لوگوں میں سے کچھ سے بات چیت کی۔ان میں سے ایک وویوینے بھی ہے۔ وہ کہتی ہے کہ اُس نے سوچا تھا کہ وہ کوئی کام ڈھونڈ لے گی، اس کے ساتھ ساتھ پڑھے گی اور کچھ بن کر گھر لوٹے گی۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔’میں یہاں اس لیے آئی کہ نائجیریا میں حالات اچھے نہیں ہیں۔

میں نے سیکنڈری سکول امتحان پاس کیا، میرے والد کے پاس مجھے آگے پڑھانے کے پیسے نہیں تھے۔ اس لیے میں گھر سے چل پڑی۔ میں پیسے کمانا اور گھر والوں کے لیے قابلِ فخر بننا چاہتی تھی۔‘وہ اپنے والد کا یا خاندانی نام نہیں بتاتی، وہ اپنی عمر بھی 23 سال بتاتی ہے لیکن اُسے دیکھ کر اُس کی عمر کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا، وہ کہیں کم عمر دکھائی دیتی ہے۔

ابھی پچھلے مہینے اس نے گھر سے نکل کر بس پکڑی، ڈیڑھ سو میل کا سفر کر کے نائجیریا کے مرکزی شہر کانو پہنچی، وہاں سے دوسرے بڑے شہر زندر اور وہاں سے کوئی دو سو میل کے فاصلے پر واقع آغادیس۔ آغادیس کیوں؟

اس لیے کہ نائجیریا اور اُس کے ہمسایہ ملکوں میں جو بھی یورپ جانے کا خواب دیکھتا ہے یہیں آتا ہے۔وویوینے بھی یورپ جانے کا خواب لے کر آغادیس آئی تھی لیکن اب اُس کی گزر اوقات جسم فروشی پر ہے۔’میں نے بہت تلاش کیا لیکن یہاں کوئی کام نہیں ملا‘۔ اس نے اپنا موبائل فون ہاتھ میں گھماتے ہوئے کہا۔ وہ دس نائجیریائی لڑکیوں کے ساتھ دو ایسے کمروں میں رہتی ہے جن میں دروازے بھی نہیں ہیں ایک دروازے پر پردہ ضرور پڑا ہے۔

’میں جو کر رہی ہوں اس سے خوش نہیں ہوں لیکن میرے پاس جینے کا کوئی اور راستہ نہیں ہے، میں تو سوچا تھا کسی کے گھر کی صفائی ستھرائی کر لوں گے لیکن یہاں تو یہ کام بھی نہیں ہے۔‘جب بھوکوں مرنے لگی تو میری ملاقات نائجیریا کی ان لڑکیوں سے ہوئی۔ انھوں نے ہی مجھے بتایا کہ وہ زندہ رہنے کے لیے کیا کر رہی ہیں۔

میں نے بھی انہی کی طرح مردوں کو خوش کرنے کا کام شروع کر دیا۔‘آغادیس شہرکا پرانا حصہ یوں لگتا ہے جیسے تنگ گلیوں سے کوئی جال بنایا گیا ہو۔ تمام گھر کچھی اینٹوں کے بنے ہوئے ہیں اور یوں لگتے جیسے بنائے نہیں گئے زمین سے اُگ آئے ہیں۔آغادیس کے ارد گرد سوائے صحرا کے کچھ نہیں ہے۔

صحارا میں داخل ہونے سے پہلے آخری شہر۔ شاید اسی لیے یہ دور دراز مقام انسانوں سمیت ہر چیز سمگل کرنے والوں کا گڑھ ہے۔شاید اسی لیے وہ سب لوگ بھی یہیں آتے ہیں جو کہیں اور خاص طور سے یورپ پہنچنے کے خواب دیکھتے ہیں۔نقل مکانی کرنے والے افریقیوں کے لیے یہاں پہنچنے کا مطلب ہے اچھی زندگی کا پہلا مرحلہ سر ہو گیا۔

اور اچھی زندگی کا مطلب کیا ہے پیسے، جن کی توقع وہ افریقہ میں اپنے ملکوں میں رہ کر نہیں کر سکتے۔یہیں وویوینے رہتی ہیں۔ جہاں وہ رہتی ہیں اس کے اردگرد کنڈوم بکھرے دکھائی دیتے ہیں۔ کچھ فاصلے پر کوڑے کے ڈھیر سے بھی کنڈوم جلنے کی بو اٹھتی رہتی ہے۔اس علاقے سے ذرا آگے ایک مرکزی مارکیٹ ہے جہاں بینک کے سامنے لوگوں کی قطار لگی ہے۔

یہ وہ افریقی ہیں جن کا تعلق مغربی افریقہ سے ہے۔قطار میں کوئی 30 کے لگ بھگ لوگ ہیں لیکن ان میں سے کوئی بھی اپنا نام بتانا نہیں چاہتا۔لیکن وہ بتاتے ہیں کہ وہ رقم وصول کرنے کے لیے آئے ہیں جو انھیں ان کے عزیزوں اور گھر والوں نے بھیجی ہے۔

ان میں ایک نے بتایا کہ ہم میں ایسے بھی ہیں جنھوں نے پہلے کام کر کے بینک میں کچھ رقم جمع کی تھی اب وہی بچی ہے تو نکلوانے آئے ہیں۔ ان میں سے ایک سینیگال کا ہے۔ اُسے یہاں آئے دو ہفتے ہو چکے ہیں لیکن اُسے اب تک معلوم نہیں کہ شمال کی طرف اُس کا سفر کب شروع ہو گا۔

اس کا کہنا ہے کہ ہو سکتا کہ وہ پہلے چار چھ مہینے یہیں آغادیس میں کام کرے، کچھ پیسے جمع کرے اور پھر آگے کی سوچے۔بینک میں رقم نکلوانے والوں میں سے کچھ پلاسٹک کی بڑی بوتلیں خرید رہے ہیں۔ انھیں یہاں سے صحرا کا سفر شروع کرنا ہے اور ان بوتلوں میں وہ پانی بھر کر لے جائیں گے۔

انھیں جو سمگلر صحارا کے راستے لیبیا لے کر جائیں گے ان میں زیادہ تر نسلاً توبوسی ہیں۔ کرنل قدافی کے زمانے میں لیبیا میں توبوسیوں کا بڑا اثر و نفوذ تھا لیکن عرب اکثریت کے کنٹرول اور بدامنی کے بعد ان کا اثر ختم ہو چکا ہے۔

سمگلروں میں سے ایک نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ لوگوں کو ادھر سے ادھر پہنچانے والوں کے لیے انسان صرف ایک شے ہیں۔ عربی میں گفتگو کرنے والے اس سمگلر کا کہنا تھا کہ وہ مہینے بھر میں تین سو افراد کو یہاں سے وہاں لے جاتا ہے۔اس کے مطابق فی کس 500 امریکی ڈالر لیے جاتے ہیں۔

مختلف نگراں چوکیوں پر پولیس وغیرہ کو دینے کے لیے تین سو ڈالر اس کے علاوہ ہیں۔اس کا کہنا تھا ’جن کے پاس پیسے کم پڑ جاتے ہیں ہم انھیں قرض بھی دے دیتے ہیں لیکن انھیں یہ قرض دگنا لوٹانا ہوتا ہے‘۔ایک پک اپ گاڑی 25 سے 35 لوگوں کو لے کر جاتی ہے۔

’اب ہمارے پاس جی پی ایس اور ’ثریا‘ یعنی سیٹلائٹ فون بھی ہیں جس سے بھٹکنے اور پھنسنے کے امکانات کم ہو گئے ہیں۔‘ لیکن سنگین حادثات اپنی جگہ ہیں۔اس نے بتایا کہ ایک بار پک اپ الٹ گئی۔ چھ لوگ مارے گئے جن میں تین گیمبیا کے تھے، دو نائجیریائی اور ایک کیمرون کا تھا۔

آغادیس سے سڑک صحرا میں داخل ہوتی ہے لیکن جلد ہی یہ سڑک ٹیلوں میں گم ہو جاتی ہے اور واپسی کا راستہ بند ہو جاتا ہے۔ سر پر سورج ہوتا ہے اور دور کہیں لیبیا۔آغادیس میں ریڈ کراس کا ایک مرکز بھی ہے جو خوابوں کی تکمیل میں ناکام رہنے والے لٹے پٹے لوگوں کو ان کے گھروں تک پہنچانے میں مدد دیتا ہے۔ان میں ایسے بھی ہیں جو لیبیا تک پہنچنے کے بعد نکالے گئے ہیں۔

ان میں سے ہر ایک پاس ایک دردناک کہانی ہے۔ ان میں وہ بھی ہیں جنھیں شدت پسندوں نے اغوا کر کے پولیس کو بیچ دیا۔ جہاں وہ کئی ماہ جیل میں پڑے رہے۔وہ بتاتے ہیں کہ جیلوں میں ان پر تشدد کیا گیا۔ایک سے دوسری جیل بھیجا گیا اور آخر لیبیا سے نکال دیا گیا۔یورپ پہنچنے کے اس خواب میں وہ ہر چیز یہاں تک کہ جسم کے کپڑوں اور جوتوں تک سے محروم ہو گئے۔

ان میں ایک 44 سالہ گمبیائی نے بتایا۔کہ اب وہ بالکل خالی ہاتھ ہیں، کس منہ سے گھر جائیں گے۔ان میں سے ایک بتاتا ہے کہ اس نے سفر میں دو دن کچھ کھائے پیے بغیر گزارے۔ان میں کچھ جو قدرے جوان ہیں، جو الگ بیٹھے آنسو بہا رہے ہیں۔ ان کا اصرار ہے کہ وہ اپنے گھروں کو واپس نہیں جائیں گے۔

ایک کہتا ہے: ’میں ماں کو کیا شکل دکھاؤں گا۔‘ دوسرا اُسے تسلی دیتا ہے ’صبر رکھو خدا مہربان ہے وہ ضرور اچھا کرے گا۔‘ان میں سے ایک عثمان ہے۔ اُس نے جیل میں تین ماہ گزارے۔ وہ لیبیا پہنچا اور وہاں سے کشتی کے ذریعے بحیرۂ روم عبور کرنے والوں میں شامل ہوا لیکن کشتی ڈوب گئی، اطالوی کوسٹ گارڈ نے انھیں بچایا اور عثمان کو واپس لیبیا پہنچا دیا گیا۔

اس کا کہنا ہے کہ اس کی کہانی ایسی ہے کہ خود اُسے بھی یقین نہیں آتا۔ جب میں گھر لوٹوں گا اور ان لوگوں کو یہ کہانیاں سناؤں گا جو یورپ جانے کے خواب دیکھ رہے ہوں گے تو مجھے یقین ہے کہ ان میں سے کوئی بھی مجھ پر یقین نہیں کرے گا۔اس لیے نہیں کہ میں جھوٹ بول رہا ہوں بلکہ اس لیے کہ اُن کے خواب انھیں میری باتوں پر یقین نہیں کرنے دیں گے۔

یہی لوٹنے والوں کا معاملہ ہے۔ وہ اب گھر لوٹنا نہیں چاہتے جیسے وویوینے بتا رہی ہے کہ وہ اب واپس اپنے گھروالوں میں نہیں جا سکتی۔ کیوں کہ وہ انھیں یہ نہیں سمجھا سکے گی کہ وہ اتنے عرصے آغادیس میں کیا کرتی رہی اور اگر وہ ہمت کر کے انھیں سب بتا بھی دے گی

تو وہ اسے قبول نہیں کر سکیں گے۔میں نے اس سے پوچھا کہ وہ یورپ میں کہاں جانا چاہتی تھی۔اس کا جواب تھا: سپین۔ کیوں کہ اس کے دوستوں نے اُسے بتایا ہے کہ سپین بہت اچھا ہے۔ ’میں وہاں جا کر پڑھنا اور نرس بننا چاہتی تھی‘۔ اس نے کہیں دور سے آتی آواز میں کہا۔