حکیم صاحب میری بیوی مجھے کہتی ہے کہ تم مردانہ طور پر کمزور ہو تم میں مردانہ صفات نہیں ہیں


اسلام آباد (29 جولائی 2017)حکیم صاحب میری بیوی مجھے کہتی ہے کہ تم مردانہ طور پر کمزور ہو تم میں مردانہ صفات نہیں ہیں، میں یہ بات سن کر حیران رہ گیا. میں ایک حکیم ہوں یہ میرا پہلا مریض تھا جس کی بیوی اسے کہتی ہے کہ تم مردانہ کمزوری کا شکار ہو.

عمر سے تیس کے پیٹے میں ہوگا میں اسے اپنے مطب کے پیچھے بنے کیبن میں لے گیا. ضروری ٹیسٹ سے فارغ ہوا تو پتا چلا کہ وہ تو ٹھیک ہے بالکل صحت مند ہے کوئی مردانہ کمزوری نہیں ہے اور دو بچے بھی ہیں.یہ عجیب مریض تھا جو دو بچوں کا باپ ہونے کے باوجود بھی خود کو کمزور محسوس کرتا تھا. خیر اپنے کاروبار کو ایسے تو مندا نہیں کرنا تھا تو اسے دو تین بیماریوں کا بتایا. کہ تمہیں جریان، سوز آتشک وغیرہ کی چند مخفی بیماریاں ہیں اسے کچھ کشتہ جات اور اور کافی ساری وٹامنز کی رگڑی ہوئی گولیاں جو کہ مختلف قسم کے میٹھے اور کڑوے لیکن گاڑھے محلولوں میں ڈوبی ہوئی تھیں اٹھا کر دے دیں اور پندرہ دن استعمال کرنے کے بعد پھر آنے کا کہا. اصل میں ایسے ہوتا ہے  تیس چالیس سال کے مردوں کو کوئی بیماری نہیں ہوتی حتی کے پچاس سال تک بھی کوئی بیماری نہیں ہوتی اصل بیماری بڑھاپا ہوتی ہے. بڑھاپے میں عضو نے جواب تو دینا ہے لیکن یہ لوگ ذہنی طور پر خود کو بیمار تسلیم کر لیتے ہیں ان کے اندر وہم تشکیل پاجاتا ہے کہ یہ بیمار ہیں. اور یہ وہم ہم ہی تشکیل دیتے ہیں مختلف چھوٹے موٹے کتابچوں کو مفت بانٹتے ہیں. جن میں ایک نارمل انسان کی تمام خصوصیات کو ہم بیماری بنا کر پیش کرتے ہیں. پڑھنے والے خود میں تمام بیماریاں محسوس کرنے لگ جاتے ہیں. حد تو یہ ہے کہ بیس سال کے کڑیل نوجوان بھی اس شعبدے بازی سے متاثر ہوجاتے ہیں اور متاثرین میں شامل ہوکر ہمارے پاس آجاتے ہیں اور ہم انکی جیب کے مطابق بیماری اور علاج تشکیل دیتے ہیں اب یہ وہم نا پیدا کریں تو ہم تو بھوکے مرجائیں نا کیا کریں جی گندہ ہے پر دھندہ ہے اور ہم حکیموں کی روزی اسی وہم سے چلتی ہے.ہم کچھ دوائیاں دے دیتے ہیں کہ انکے ذہن میں ہمارے ہی پیدا کردے اس وہم کو ختم کرنے کے لیے رد وہم کی سوچ پیدا کی جا سکے. جو زیادہ عمر والے ہوں انکے لیے سٹرائیڈز ہی بہتر کام کرتے ہیں خیر وہ مریض پندرہ دن بعد واپس آیا. اسکی ذہنی حالت سے لگتا تھا کہ وہ ذہنی طور پر بہت زیادہ پریشان ہے. پتا چلا اب بھی اسکی بیوی نے اسکی صحت سے انکار کر دیا ہے کہتا ہے حکیم صاحب کچھ کریں میں گھٹ گھٹ کے مرجاؤں گا.میں دل میں حیران تھا کہ ایک صحت مند شوہر پر اسکی بیوی کیوں ذہنی تشدد کر رہی ہے خیر اسے اگلے پندرہ دن کی دوا دے کر اس نصیحت کے ساتھ ٹرخا دیا کہ اگلی بار اگر تمہاری بیوی کو شکایت ہو تو اسے ساتھ لے کر آنا کیونکہ میری دوائیاں تو مردوں کو زندہ کر دیتی ہیں اور تمہاری بیوی ابھی تک شکایت کر رہی ہے. خیر وہ چلا گیا میں کچھ دیر سوچتا رہادس بارہ دن گزرنے کے بعد اسے فون کیا اور حال وغیرہ پوچھا تو وہی صورت حال باقی تھی اسے بولا کہ اگلے دن شام کو وہ اپنی بیوی کو اپنے ساتھ لے آئے. اگلے دن وہ دونوں میرے سامنے بیٹھے تھے ہاں بی بی آپ کو اپنے شوہر سے کیا مسئلہ ہے. حکیم صاحب وہ مردانہ طور پر کمزور ہیں، میں اسکی بے باکی پر حیران رہ گیا. اسکے شوہر نے ایک نظر شکایت اس پر ڈالی اور میری طرف امداد طلب نظروں سے گھورنے لگا.میں تھوڑا سا جھلا گیا کہ کیسی عورت ہے ذرا بھی شرم حیا نہیں ہے. تو میں نے بھی شرم و حیا کا تقاضا ایک طرف رکھا اور تیز تیز سوال کرنا شروع کر دیے. جب اس سے پوچھا کہ اپنے مرد سے اسکا گزارہ نہیں ہوتا. تو کہتی ہے کہ دو بچے ہیں ہمارے وہ جسمانی طور پر ٹھیک ہے بالکل ٹھیک ہیں. تو بی بی پھر مردانہ طور پر کمزور کیسے ہوئے. حکیم صاحب! میرے بابا دیہات میں رہتے ہیں، زمینداری کرتے ہیں ، ہم دو بہنیں ہیں.ہمیں کبھی بھی رانی سے کم بلایا ہی نہیں. اور میرے شوہر مجھے کتی بلاتے ہیں، یہ کونسی مردانہ صفت ہے حکیم صاحب؟ مجھ سے کوئی غلطی ہوجائے، یہ میرے پورے میکے کو ننگی ننگی گالیاں دیتے ہیں . بتائیں جی اس میں اُنکا کیا قصور ہے ؟ یہ مردانہ صفت تو نہیں نا کہ دوسروں کی گھر والیوں کو گالی دی جائے. حکیم صاحب! میرے بابا مجھے شہزادی کہتے ہیں اور یہ غصے میں کنجری کہتے ہیں. مرد تو وہ ہوتا ہے نا جو کنجری کو بھی اتنی عزت دے کہ وہ کنجری نا رہے.اور یہ اپنی بیوی کو کنجری پکارتے ہیں یہ کوئی مردانہ بات تو نہیں ہوئی نا! حکیم صاحب اب آپ بتائیں کیا یہ مردانہ طور پر کمزور نہیں ہیں؟ میرا سر شرم سے جھک گیا تھا. اسکا شوہر آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اسکی طرف دیکھ رہا تھا. اگر یہی مسئلہ تھا تو تم مجھے بتا سکتی تھیں نا. مجھ پر ذہنی ٹارچر کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ آپ کو کیا لگتا ہے آپ جب میری ماں بہن کے ساتھ ناجائز رشتے جوڑتے ہیں،  میں خوش ہوتی ہوں.اتنے سالوں سے آپکا کیا گیا ذہنی تشدد برداشت کر رہی ہوں اور ہاں حکیم کے پاس آنے سے پہلے مجھ سے پوچھ لیتے تو اتنا پیسہ ضائع کرنے کی ضرورت نہیں تھی. وہ دونوں چلے گئے میں کافی دیر تک وہیں مطب کے پیچھے بنے کمرے میں سوچ بچار کرتا رہا. باہر نکلا تو میرا شاگرد مجھے دیکھتے ہی بولا حکیم صاحب وہ میاں بیوی باہر نکلے تو میں نے پندرہ دن کی اور دوائی پیک کر کے دینے لگا پر اسکی بیوی بڑی کتیا نکلی.اس نے دوائی میرے منہ پر ماری کہتی ہے خود کھا لینا اور اپنے اس لٹیرے حکیم کو کھلا دینا. کیا؟ بہن ……..!میری زبان سے گالی آتے آتے رک چکی تھی. کیا میں بھی مردانہ کمزوری کا شکار ہوں، میرے ذہن سے سوچ ابھرنے لگی!

You cannot copy content of this page