میں تمہارے ساتھ ہمبستری نہیں کر سکتی، مجھے ماہواری ہو رہی ہے! سہاگ رات کی سچی خوفناک داستان۔

میں ایک میڈیکل کی طالبہ ہوں اور عباسی شہید ہسپتال میں تربیت حاصل کر رہی ہوں .کل رات تابکاری کے شعبہ میں ایک ایسی لڑکی سے ملی جسکی ایک رات قبل شادی ہوئی تھی .اس کے ہاتھوں پر گہرے رنگ کی خوبصورت مہندی ،منہ پر میک اپ اور بالوں کا اسٹائل بھی بہت مہارت سے بنا ہوا تھا. میں یہ دیکھ کر حیران تھی کہ وہ دلہن رو رہی ہے. اور اس کے چہرے پر بہت سے نشانات ہیں جیسا کہ اس کو کسی نے خوب مارا پیٹا اور زبردستی کی ہو . جب میں نے غور سے دیکھا تو اس کی ٹانگوں پر جگہ جگہ خون جما ہوا تھا . اس لڑکی کے ساتھ ایک مرد بھی تھا جو اسے ہسپتال تک لایا تھا .میں نے اس آدمی سے پوچھا کیا ہوا ہے؟ اس نی کہا کچھ خاص نہیں بس خاوند ،بیوی کے درمیان چھوٹا سا مسلہ تھا اور بات گول مول کر دی جیسے وہ مجہے بتانا ہی نہ چاہتا ہو .تو میں نے لڑکی یعنی دلہن سے پوچھا یہ کون ہے اس نے بتایا کہ یہ میرا بھائی ہے.

اب میں نے لڑکی کو پیار کیا اور تسلی دی کہ وہ بغیر کسی ڈر کے مجہے سب بتائے میں اس کے ساتھ ہوں .بس میرا اتنا کہنا تھا کہ وہ بیچاری لڑکی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی .اس نے بتایا کہ میرے خاوند نے مجھے بہت مارا پیٹا اور مجھ سے زبردستی ہم بستری کی .میں حیران ہو کر بولی زبردستی ؟اس نے سر ہلایا اور پھر سار ی بات تفصیل سے بتائی کہ .میری شادی کی پہلی رات یعنی کل میرے خاوند نے مجھ سے مباشرت کے لیے کہا تو میں نے منع صرف اس لیے کیا کہ مجھے ماہواری ہو رہی ہے اس لیے میں ہمبستری نہیں کر سکتی اس نے کہا کوئی مسلہ نہیں مجھے تو آج اور ابھی جنسی تعلق قائم کرنا ہے . اسپر میں نے اسے دوبارہ منع کیا کہ میری طبعیت خراب ہے .بس پھر میرا خاوند غصّے میں آپے سے باہر ہو گیا .اس نے اس بات کا خیال کیے بغیر کہ آج ہی ہماری شادی ہوئی ہے .مجھے بری طرح مارنا شروع کر دیا پھر اس نے مجھ سے زبردستی ہم بستری کی اب اس نے مجھے پھر لاتوں اور بیلٹ سے ایسے مارا جیسے میں نے کوئی جرم کیا ہو .میں جو اس دن کے لئے آنکھوں میں بہت سے خواب سجایے بیٹھی تھی بہت روئی اس وحشی سے رحم کے بھیگ مانگے لیکن اس نے مجھے گردن سے پکڑ کر اسقدر زور سے دھکا دیا کہ میری ہنسلی کی ہڈی ٹوٹ گئ .یہ لڑکی اپنی گردن کی رپورٹ دیکھتے ہوۓ درد سے بچوں کی طرح رو رہی تھی پھر ایک دم سے اس نے اپنے بھائی پر چلانا شروع کر دیا کہ تم لوگوں نے کیسے آدمی سے میرا نکاح کیا ہے .

میں نے اسے تسلی دی اور اسے مشورہ دیا کہ اپنے خاوند کے خلاف تھانے میں ایف آئی آر درج کروا دو .اسی دوران اسکا بھائی غصہ میں بولا نہیں بی بی یہ تو سری غلطی میری بہن کی ہے اگر یہ اپنے خاوند کو نہ نا کہتی تو ایسا نہ ہوتا اس کے بھائی کی بات نے مجہے حیران کر دیا .مجھے بہت غصّہ آیا میں نے کہا سنو بھائی کوئی خاوند اپنی بیوی کی مرضی کے بغیر اس سے ہم بستری نہیں کر سکتا .اور اسلام میں بھی حیض کے دوران ہم بستری کرنے سے منع کیا ہے. قرآن پاک میں ہے “پوچھتے ہیں :حیض کا کیا حکم ہے؟ کہو :وہ ایک گندگی کی حالت ہے. اس میں عورت سے الگ رہو اور ان کے قریب نہ جاؤ جب تک کے وہ پاک نہ ہو جائیں “

حیض میں ہم بستری مردوں کے لئے نقصان دہ ہے .اس سے پہلے کہ میں کچھ اور کہتی فورا لڑکی کا بھائی بولا جی جو آپ کہہ رہی ہیں ایسی کوئی بات نہیں یہ تو اس کی بیوی ہے وہ جو چاہے اس کے ساتھ کرے اسوقت مجھے اندازہ ہوا کہ آج کے اس ترقی یافتہ دور میں بھی ہمارا معاشرہ ازواجی عصمت دری کو غلط نہیں سمجھتا لہذا مرد جو کرے سب ٹھیک ہے .