نئی فلم نیا فتنہ ، خود بھی بچیں اور بچائیں معاشرے کو


ہم جنس پرستی ایک ایسا عمل ہے کہ جس میں مرد مرد کے ساتھ یہ عورت عورت کے ساتھ ج** قائم کرتے ہیں یہ کیسا کام ہے کہ جو کسی بھی مذہب اور معاشرے میں انتہائی ناپسندیدہ سمجھا جاتا ہے اور کچھ سال پہلے تک یورپ جیسے ممالک میں بھی یہ گھناؤنا کام سمجھا جاتا تھا اور اس کے کرنے والے کو انتہائی معیوب تصور کیا جاتا تھا اور لوگ اس کے ساتھ تعلق رکھتے تھے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عالمی میڈیا کے پروپیگنڈا کے دروں اور فلموں کے چینل کے ذریعے اب اس کام کو ایک انسانی حق تصور کرکے کو پرموٹ کیا جارہا ہے اس کے لیے فلمیں بنائی جاتی ہے اس کے لیے تحریک چلائی جاتی ہے اس کے لئے سوشل میڈیا کا پلیٹ فارم بھی استعمال کیا جاتا ہے اسلام میں ہم جنس پرستی کی سزا یدہ ایسا خط ہے اور اس کوئی غیر فطری عمل قرار دیا گیا ہے کیونکہ اللہ تعالی نے انسان کی نسل کو بڑھانے کے لئے نکاح کو سب سے پسندیدہ قرار دیا ہے اور اس سے پہلے قوم ایسی بھی تھی جس کو اللہ تعالی نے قرآن کے اندر ذکر کیا ہے کہ وہ لوگ ہم جنس پرست تھے اور اللہ نے ان کو ان کی اس گناہ کی وجہ سے زمین میں دھنسا دیا تھا الومیناٹی اور دوسرے خفیہ تنظیمیں نوجوانوں اور نوجوانوں کا ذہن خراب کرنے اور معاشروں کی بگاڑ کے لیے فلموں کا خوب سہارا لے رہی ہے اور پاکستان میں خاص کر بالی وڈ کی فلمیں بہت زیادہ پسند کی جاتی ہے اور کو خوب دیکھا جاتا ہے اس لئے یہ لوگ اب بالی وڈ کے ذریعے مسلمانوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہے ہیں اور ایسے موضوعات پر فلمیں بنا رہے ہیں

جس کے بارے میں کبھی مسلمانوں کے معاشرے میں بات تک نہ کی جاتی تھی حال ہی میں ایک کا بالی ووڈ کی فلم ریلیز ہونے والی ہے جس میں ایک لڑکی کا باپ اس کے لیے رشتہ ڈھونڈ رہا ہوتا ہے اور ایک لڑکا پسند بھی آجاتا ہے اور لڑکا بھی اس کو پسند کرتا ہے لیکن لڑکی آخر میں آکر اس کو بتاتی ہے کہ وہ لڑکوں کے بجائے لڑکیوں میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہے یعنی وہ ہم جنس پرست ہوتی ہے اور اس کو ایک لڑکی سے بھی محبت ہے اس فلم کی خوب تشہیر ہو رہی ہے اور خاص کر سوشل میڈیا پر اس کے زیادہ چرچے ہیں اور لوگ اس کو درد شئیر بھی کرتے جارہے ہیں دراصل لیے ایک فتنہ ہے جو کہ نہیں جو کیا جاتا ہے کہ پاکستان کے اندر ایسے ہی ذہن سازی کی جائے اور اس گھناؤنے کام کو ایک فطری عمل ثابت کر کے دکھایا جائے حالانکہ پاکستان میں اس کے خلاف پہلوی لوگوں نے کافی کوششیں کی علماء نے اس کے خلاف بھرپور تحریک چلائیں اور ان کے چاہنے والوں نے بھی ہر سطح پر اس کے خلاف آواز اٹھائی ہے اور انشاءاللہ مستقبل میں بھی اس کے خلاف کام کیا جاتا رہے گا لیکن جانے والوں سے عرض ہے کہ آپ بھی اس فلم کے خلاف اپنی آواز اٹھائی اور اس کے خلاف بھرپور بائیکاٹ کریں تاکہ کھلنے نہ پائے