وہ فلم جس میں ریپ کا سین عکسبند کرنے کیلئے اداکارہ کو واقعی ’ریپ‘ کردیا گیا


مشہور زمانہ فلم ”لاسٹ ٹینگو ان پیرس(Last Tango in Paris)“ انتہائی شرمناک جنسی مناظر کی وجہ سے پہلے ہی دنیا کی متنازع ترین فلموں میں شمار ہوتی ہے، لیکن اب اس کے ایک ریپ سین کے متعلق فلم کے ڈائریکٹر نے ایسا اعتراف کر دیا ہے کہ سننے والے واقعی ہل کر رہ گئے ہیں۔

اخبار ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق 1972ءمیں بننے والی فلم کے ڈائریکٹر برنارڈو برٹولوچی نے ایک انٹرویو میں یہ اعتراف کرکے دنیا کو پریشان کر دیا ہے کہ فلم کا متنازع ترین سین ، جس میںمارلن برانڈو ہیروئن ماریہ شنائیڈر کو ریپ کا نشانہ بناتا ہے، محض ایک فلمی منظر نہیں بلکہ حقیقی ریپ تھا۔ برنارڈو کا کہنا ہے کہ یہ سین سکرپٹ میں نہیں تھا اور ماریہ اس کے متعلق بے خبر تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بات صرف انہیں اور برینڈن کو معلوم تھی کہ ماریہ کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ برنارڈو نے بتایا کہ یہ برینڈن کی ہی تجویز تھی، جس کا مقصد اس سین کو حقیقی رنگ دینا تھا۔ برنارڈو کے مطابق ان کا اپنا بھی یہی خیال تھا کہ اس صورت میں ماریہ ایک فلمی ایکٹر کی بجائے ایک حقیقی لڑکی کے تاثرات دیں گی۔

واضح رہے کہ مذکورہ سین کا شمار پہلے ہی فلمی تاریخ کے بیہودہ ترین مناظر میں ہوتا ہے، لیکن اس انکشاف نے اس کی سنگینی میں ناقابل تصور اضافہ کردیا ہے۔ دنیا بھر کے فلمی شائقین اس انکشاف پر شدید غم و غصے کا اظہار کررہے ہیں۔ انٹرنیٹ صارفین کی بہت بڑی تعداد کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس بات کا عہد کرلیا ہے کہ آئندہ برنارڈو اور برینڈن کی فلم پر نظر بھی نہیں ڈالیں گے۔