آخر وہی ہوا جس کا ڈرتھا


گزشتہ دنوں امریکہ نے ایران کو سبق سکھانے کے لیے اپنے طیارے بھیجے اور اس کے ساتھ ایک بحری بیڑا ایران کے حدود کی طرف روانہ کر دیا اس سارے منظر نامے میں اچانک اس وقت تبدیلی دیکھنے کو ملیں گے جب متحدہ عرب امارات کی طرف سے یہ دعویٰ کیا گیا کہ ان کے چار بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا ہے کہ جو تیل لے کر جارہے تھے جبکہ سعودی عرب کی طرف سے سات کا دعویٰ کیا گیا جبکہ مقامی افراد کو اس کے بارے میں مکمل طور پر علم ہی نہیں کہ وہاں پر کچھ ہوا بھی ہے نہیں ایسے ہی سعودی عرب کے اس دعوے کے بعد کے ان کے ساتھ تیل کے جہازوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے ایران نے فورا تفشیش کرنے کا اعلان کیا

کہ بین الاقوامی ادارے اس بات کو یقینی بنائے کہ حملہ کس نے کیا اور کیوں کر کیا ہو کس جہاز کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی اور اس کے پیچھے تمام عناصر کو سامنے لایا جائے اگر بہت جیسے لیا جائے تو ایسا لگ رہا ہے کہ حملہ ہوا ہی نہیں بلکہ ایک آگ کو بھڑکانے کی کوشش ہے تاکہ امریکہ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب جیسے طاقتور معاشی ممالک کو ایران کے خلاف جنگ لڑنے پر آمادہ کیا جا سکے اور یہی کوشش ہے امریکہ کی ایران کو برانگیختہ کیا جائے اور وہ عرب ممالک میں موجود امریکہ کے اڈوں کو نشانہ بنائے تاکہ عرب ممالک کو موقع مل سکے کہ وہ ایران کے خلاف کسی قسم کی جارحیت کر سکے مزید تفصیلات جاننے کے لئے ویڈیو ملاحظہ کریں

You cannot copy content of this page