اگلے سال الیکشن کروائیں ورنہ مارشل لاء لگ جائےگا


پاکستان مسلم لیگ نون کے مرکزی عہدیداروں اور سینئر رہنما احسن اقبال نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کرنے کے بعد مکمل طور پر سرنڈر کرچکی ہے عمران خان کی ٹیم انتہائی تجربہ کار ہے اور ملکی معیشت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا گیا ہے بجلی گیس اور ٹیکسوں میں اضافے سے بدترین مہنگائی دیکھنے کو مل رہی ہے اور ملک میں ایسا دکھائی دے رہا ہے کہ اگر آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ ہوگیا تو ملک بھر میں مہنگائی کی ثنا میں آجائے گی انہوں نے یہ بھی کہا کہ عمران خان کی ٹیم انتہائی کمزور اور ناتجربہ کار ہے جس کی وجہ سے ملکی معیشت کا بیڑا غرق ہو چکا ہے اس کے ساتھ انھوں نے مزید کہا کہ گھریلو صارفین کے زیر استعمال اشیاء پر ٹیکس لگنے کے بعد جس طرح مہنگائی دیکھنے کو مل رہی ہے اس سے پہلے کبھی اتنی مہنگائی نہیں ہوئی انہوں نے کہا کہ تیل گیس اور اس طرح کی دوسری چیزوں پر ٹیکس لگانے سے براہ راست عوام پر اثر پڑتا ہے

اور عوام پہلے سے ہی جو مہنگائی کی ماری ہوئی ہے وہ مزید مہنگائی کے بوجھ تلے دبتے جارہی ہے انہوں نے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے اندر اسوکا جو سیاسی بحران پیدا ہو چکا ہے اس کی وجہ سے پاکستان کو سی پیک سے خاطر خواہ فائدہ ملتا ہوا دکھائی نہیں دے رہا بلکہ پاکستان جنوبی ایشیا کا ایک بیمار ملک بن چکا ہے انہوں نے کہا کہ نو برس کے اندر جتنی مہنگائی ہوئی ہے اور جتنی مہنگائی کی شرح میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے اور جتنا خسارہ دیکھنے کو مل رہا ہے وہ بھی ایک ریکارڈ ہے خان صاحب! یہ پکنک نہیں، حکومت ہے۔ نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اگلے سال الیکشن کروائے ورنہ ملک میں غیر سیاسی قوتیں اپنی حکومت بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہو چکی ہے اور پاکستکے اندر مارشل لاء لگ سکتا ہے انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس وقت ملک کے اندر جس طرح سے ٹیکنوکریٹ افراد کو بھرتی کیا جارہا ہے اور انکو اہم کلیدی عہدوں پر رکھا جا رہا ہے اس سے بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ ملک کے اندر عملا مارشل لاء نافذ ہو چکا ہے بس علان کرنے کی دیر ہے انہوں نے عمران خان کی ٹویٹ کے جواب میں بھی یہ بات کرتے ہوئے کہا کہ خان صاحب یہ حکومت کرنا ہے کوئی پکنک نہیں اور اگر اپنے قرض اتارنا ہی ہے تو پھر آپ کو چاہیے کہ آپ کوئی معاشی منصوبہ واضح طور پر عوام کے سامنے رکھے نہ کہ عوام کی چیخیں نکالے

You cannot copy content of this page