ہم مہمانوں کی عزت کرتے ہیں چاہے وہ جنگی قیدی ہی کیوں نہ ہو!!


دشمن ہوئے دوست جب وہ ہمارا مہمان بن کر آتا ہے تو ہم ان کی قدر کرتے ہیں اس لیے ہم دس فیصد ڈسکاؤنٹ کے ساتھ سوٹ دیتے ہیں یہ بات صابر شاکر نے اپنے پروگرام کی ان کا کہنا تھا کہ راولپنڈی کینٹ کے علاقے سے فوجی افسران نے ابھینندن کے لئے ایک سوٹ خریدا جب دوکاندار کو معلوم ہوا کہ یہ سوٹ ابھی نندن کے لئے خریدا جا رہا ہے تو انہوں نے فوجی افسران سے کہا کہ ہم آپ کو 10 پرسنٹ ڈسکاونٹ دیں گے کیونکہ ابھی نندن ہمارے مہمان ہیں یاد رہے 14 فروری کو پلوامہ میں بھارتی فورسز کو نشانہ بنایا گیا جس میں پچاس سے زیادہ فوجی مارے گئے اور کی شدید زخمی ہوئے جس کے بعد بھارت نے بر راست پاکستان پر الزام لگایا 26 فروری کو بھارت نے پاکستان کی سرحدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فضائیہ کی پیارے بالاکوٹ تک آئے اور پھر واپس بھاگ گئے ہیں اگلے دن پاکستان نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے

بھارت کے دو طیارے مار گرائے ایک طیارہ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں گرا جبکہ دوسرا طیارہ پاکستان کی حدود میں گرا جس سے دو پائلٹ گرفتار ہوئے ایک پائلٹ ابھینندن تھا جبکہ دوسرے پائلٹ کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ ایک اسرائیلی تھا جس کے بارے میں پہلے تو پاکستان کے ڈی جی آئی ایس پی آر نے خبر دی کہ ایک ہوں زندہ گرفتار کر لیا گیا ہے اور دوسرا پائلٹ ایم ایچ منتقل کردیا گیا ہے اور اس کے بعد خاموشی ہوئی اور دوسرے پائلٹ کے بارے میں کبھی بھی گفتگو نہیں ہوئی حتی کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہمارے پاس صرف ایک پائلٹ ہے ابھینندن کو گرفتاری کے اگلے روز جنیوا کنونشن کے معاہدے کے تحت رہا کردیا گیا اور اس کو بھارتی فورسز کے حوالے کر دیا گیا