عالمی عدالت میں کلبھوشن کیس اور پاکستانی وکیل کے دلائل


عالمی عدالت انصاف میں اسوقت کلبھوشن یادو کا معاملہ زیربحث ہے پاکستان کے وکیل کی طرف سے جو دلائل دیئے گئے ہیں اس کے بعد عالمی میڈیا اور انڈیا میں اس پر بہت زیادہ بحث کی جا رہی ہیں اور ان دلائل کو بہت ہی زیادہ اچھا مانا جارہا ہے دراصل پاکستانی وکیل نے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے اندر جتنی بھی دہشت گردی کی کروایا ہوتی ہے ان کی تمام تر منصوبہ بندی یا تو انڈیا میں ہوتی ہے یا پھر انڈیا کے لوگ اپنا بیس کیمپ ایران میں بنا کر یا پھرافغانستان میں بناکر کروائی کرتے ہیں انہوں نے سوال کرتے ہوئے کہا کہ اگر کلبوشن یادو بے گناہ ہے تو پھر سوال یہ اٹھتا ہے کہ اس کا جو پاسپورٹ ہے اس پر اس کا نام حسین کیوں لکھا ہوا ہے دوسرا سوال یہ لکھ کیا گیا ہے تا کہ بھارت نے سب سے پہلے جب کلبوشن یادو کی خبر سنی تو انہوں نے کہا کہ کلبوشن یادو ہمارا شہری ہی نہیں اگر یہ ان کا شہری نہیں ہے تو پھر یہ مقدمہ کیوں لڑا جا رہا ہے اس کے ساتھ بھارت کے اوپر ایک اور سوال کیا گیا وہ یہ تھا کہ بھارت نے سب سے پہلے پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کلبوشن یادو ہمارا سپاہی ہی نہیں بلکہ یہ ریٹائرڈ ہو چکا ہے تو اگر یہ ریٹائرڈ ہو چکا ہے پاکستان کو اب تک اس کے ثبوت بھی نہیں دیے گئے کہ یہ ایک ریٹائرڈ آرمی پرسن ہے مزید تفصیلات جاننے کے لیے ویڈیو ملاحظہ

تا کہ بھارت نے سب سے پہلے جب کلبوشن یادو کی خبر سنی تو انہوں نے کہا کہ کلبوشن یادو ہمارا شہری ہی نہیں اگر یہ ان کا شہری نہیں ہے تو پھر یہ مقدمہ کیوں لڑا جا رہا ہے اس کے ساتھ بھارت کے اوپر ایک اور سوال کیا گیا وہ یہ تھا کہ بھارت نے سب سے پہلے پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کلبوشن یادو ہمارا سپاہی ہی نہیں بلکہ یہ ریٹائرڈ ہو چکا ہے تو اگر یہ ریٹائرڈ ہو چکا ہے پاکستان کو اب تک اس کے ثبوت بھی نہیں دیے گئے کہ یہ ایک ریٹائرڈ آرمی پرسن ہے مزید تفصیلات جاننے کے لیے ویڈیو ملاحظہ