شہباز شریف رہا ، آخر کب تک ؟


پاکستان کا نظام شاید دنیا میں چور اچکوں کرپٹ اور ہر طرح کے مجرموں کے لیے سب سےمحفوظ نظام تصور کیا جاتا ہے اس ملک میں قانون صرف غریبوں کے لئے ہے اگر کوئی غریب ایک انڈہ چوری کر لی تو اس کی وجہ سے اس کو کئی سال جیل میں گزارنے پڑتے ہیں لیکن دوسری طرف ایک شخص جو کھربوں روپے ملک سے لوٹ کر باہر چلا جاتا ہے اس کے ساتھ نہ صرف ڈیل کی جاتی ہے بلکہ باعزت بری بھی کر دیا جاتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اس کو ملک بھر میں جہاں پر بھی چاہے الیکشن لڑنے کی اجازت مل جاتی ہے جس کے بعد دوبارہ اسمبلی میں جاکر پہلے سے زیادہ پیسہ کما کر ملک سے جاتا ہے اس کی سب سے بڑی مثال شہباز شریف ہی کو لے لیں نوازشریف کو لےلے آصف علی زرداری کو لے لی اور اس کے ساتھ عمران خان کی ٹیم میں وہ کھلاڑی جو کھربوں روپے کی کرپشن کر چکے ہیں لیکن ابھی تک ان پر ہاتھ نہیں ڈالا گیا اس نظام کو بدلنے کی ضرورت ہے یہ نظام آج کے دور جدید کے ساتھ چلنے والا نہیں یہ نظام عام آدمی کو انصاف تک فراہم نہیں کرسکتا

تعلیم اور صحت جیسی سہولیات تو دور کی بات ہے حتیٰ کہ تین دفعہ وزیراعظم بننے والا شخص یہ کہتا ہے کہ مجھے ملک سے باہر لے جایا جائے کیونکہ ملک میں صحت کی سہولیات ناکافی ہیں پاکستان کی ترقی کا ایک ہی حل ہے کہ یہاں پر ایک ایسے نظام نافذ کیا جائے کہ جس میں سورج کو لٹیروں ڈاکوؤں اور ملک سے غداروں کو سخت سے سخت سزائیں دی جائیں یہاں قانون صرف غریبوں کے لئے نہیں بلکہ امیر بھی ایسے ہی ٹریٹ کیے جاتے ہو جیسے غریبوں کے ساتھ کیا جاتا ہے تب جا کر اس ملک کی تبدیلی ممکن ہے اس ملک میں تب جاکر امن اور سکون آ سکتا ہے مزید تفصیلات کے لیے ویڈیو ملاحظہ فرمائیے