تحریک لبیک کی قیادت کا حکومت سے رابطہ


تحریک لبیک کے قیادت نے اپنے کارکنان کی طرف سے سرد مہری دکھانے کی وجہ سے حکومت کے ساتھ بیک ڈور رابطے شروع کردیئے ہیں یاد رہے تحریک لبیک پاکستان کی طرف سے مختلف جرنیلوں کو قتل کرنے اور حکومت کا تختہ الٹنے کی بات کی گئی تھی اور ان پر کفر کے فتوے تک لگائے گئے تھے جس کے بعد حکومت نے حالات کو کنٹرول کرنے کے لئے علامہ خادم رضوی علامہ اشرف جلالی اور دوسروں کو گرفتار کیا تھا جب کہ علامہ اشرف جلالی کے بیٹے نے ان کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے والد کو گرفتار کر دیا گیا ہے اور اس کے ساتھ ملک بھر سے جو کہ اس کے احسان کو گرفتار کیا جا رہا ہے اور خاص کر لاہور میں ہزاروں کی تعداد میں کارکنان کو بھی پولیس نے دھر لیا ہے علامہ خادم رضوی پر کس چل رہے ہیں اور وہ تاحال جیل میں ہی کارکنان کی طرف سے کسی قسم کا احتجاج نہ ہونے کی وجہ سے وہ شدید مایوسی کا شکار ہو چکے ہیں

جبکہ اس مسئلے کو انتظامیہ نے بخوبی سنبھالا ہے اور کسی طریقے سے بھی لوگوں کو مشتعل ہونے سے روکے رکھا ہے خادم رضوی اس وقت شدید پریشانی کا شکار ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ یہ معاملہ جلد سے جلد ختم ہوجائے جس کے بعد انہوں نے حکومت سے رابطہ کیا اور کہا کہ اگر ان کو رہا کردیا جائے تو وہ اپنی تمام فتح واپس لے لیں گے اور کسی کو بھی قتل کرنے کا فتوی نہیں دیں گے اور وہ اس وہ حالات کو خراب کرنے کی بھی ہرگز کوشش نہیں کریں گے اور وہ اس کی مکمل گارنٹی دیتے ہیں اس کے بعد حکومت کی طرف سے بھی مثبت پیشرفت دیکھنے کو ملی ہے حکومت کی طرف سے کہا گیا ہے کہ اس مسیح کا جو فیصلہ ہے اس کو تسلیم کیا جائے گا اور اس کے ساتھ ساتھ جو قتل کے فتوے ہیں وہ واپس لیے جائیں گے