عمران خان کا نمل میں خطاب


گزشتہ دنوں پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے میانوالی میں واقعہ نمل یونیورسٹی میں معزز مہمان کی حیثیت سے شرکت کی انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ مجھے بہت خوشی ہے جب میں آپ لوگوں کو یہاں سے تعلیم حاصل کرتے ہوئے اور معاشرے کا حصہ بنتے ہوئے دیکھتا ہوں مجھے خوشی اس بات کی ہے کہ اس تقریب میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جن کی مدد سے یہ یونیورسٹی بنی ہے اور یہاں سے آپ نے تعلیم حاصل کی میانوالی کے بارے میں لوگ کہا کرتے تھے کہ یہاں صرف مفرور لوگ رہتے ہیں اور یہاں ایک یونیورسٹی بنانا ایک خواب ہے لیکن ان لوگوں نے میرا ساتھ دیا میری حوصلہ افزائی کی اور ان کی مدد سے آج میں ایک یونیورسٹی بنا چکا ہوں اگر آپ لوگ نہ ہوتے

تو آج شاید میں پاکستان کا وزیراعظم بھی نہ ہوتا ان کا کہنا تھا کہ پروفیسر جن کا تعلق کیلیفورنیا سے ہے انہوں نے اپنی تقریر میں بات کی کہ کیلیفورنیا جیسا علاقہ جہاں پر پانی کی انتہائی کمی ہے لیکن اس کے باوجود وہ لوگ پوری دنیا کو اناج کی سپلائی کرتے ہیں جب کہ پاکستان میں پانی کی وافر مقدار ہے لیکن یہاں پر اناج اتنا کم ہوتا ہے کہ کسان کی ضرورت کو بھی پورا نہیں کرتا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم لوگ ابھی سائنسی فیلڈ میں بہت پیچھے ہیں اور ہمیں مزید تحقیق کی ضرورت ہے اور وہ تمام طریقے اختیار کرنے چاہیے جس کی مدد سے یورپ پوری دنیا کو اور دوسری چیزیں سپلائی کرتا ہے انہوں نے انہوں نے تحقیق پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہالینڈ جیسا ملک جو کہ پوری دنیا کو دودھ اور اس سے بنی ہوئی چیزیں سپلائی کرتا ہے وہاں پر ایک گائے 40 لیٹر تک دودھ دیتی ہے جبکہ پاکستان میں ایک کا زیادہ سے زیادہ چھ سے آٹھ کلو دودھ دیتی ہے اس لئے ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ ہم پاکستان کو اگر ترقی یافتہ ممالک میں شامل کرنا چاہتے ہیں پھر وہ تمام طریقے اختیار کرنی چاہیے جو کہ اس وقت یورپ کے لوگ اختیار کر چکے ہیں کرچکے ہیں مزید ملاحظہ فرمائیں