مراد سعید کے ہاتھوں سعد رفیق کی دھلائی


گزشتہ روز قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں حکومت کو بات کرنے کا موقع ملا اس کے ساتھ ساتھ اپوزیشن کی طرف سے بھی سوالات جوابات ہوئے اس دوران سعد رفیق کا کہنا تھا کہ اپوزیشن لیڈر کو 600 ووٹوں سے ہرایا گیا ہے جس کے جواب میں مراد سعید نے کہا کہ ان کو ہرانے کی بلکہ وہ ہر گئے ہیں بلکہ اس میں مزید کہنا چاہتا ہوں کہ اب وقت بدل چکا ہے اور نواز شریف کی جگہ جیل میں ہے اور ان کے ماننے والوں کی جگہ بھی جلد ہی ہوگی جو میں کرپشن کرے گا اس کو پکڑا جائے گا اور جب پاکستان کے مخالف ہو گا اس کو جیل بھیجا جائے گا چاہے وہ کوئی بھی ہو اس کے ساتھ انہوں نے کہا کہ دراصل یہ لوگ چاہتے ہیں کہ ہم ہیں جیتے رہیں اگر کوئی اور جیتے تو ہم الیکشن کو متنازعہ بنا دے لوگ جسٹس نہیں چاہتے بلکہ بلکہ ان کو چاہیے تاکہ اپنے مطابق ان کے فیصلے کے ہوسکے

ان کو انصاف نہیں چاہیے ان کو انصاف کا ترازو چاہئے تھا کہ اپنی مرضی سے اس کے علاوہ انھوں نے جن کو کھری کھری سنائی اس کے بعد اپوزیشن نے احتجاج ن قومی اسمبلی کے اجلاس کا واک آوٹ کیا اور کہا کہ جب تک مرادسید معافی نہیں مانگیں گے اجلاس جاری نہی نہیں ہوگا یاد رہے کہ اس سے پہلے وزیر اطلاعات ہیں انہوں نے کچھ ایسی گفتگو کی تھی جس کی وجہ سے بعد میں ان کو معافی مانگنی پڑی اور ایسے ہی لگ رہا ہے کہ آج سے کوئی معافی مانگنی پڑے گی کیونکہ اس وقت اپوزیشن اس پوزیشن پر ہے کہ اس کے بغیر حکومت کسی قسم کی قانونی کارروائی نہیں کرسکتی اور نہ ہی کسی قسم کا قانون پاس کر سکتی ہے