جیو کا اینکر پرسن طلعت حسین اپنے انجام کو پہنچ گیا، کہا تھا نہ کہ کوئی غدّار نہیں بچے گا


جیو کا اینکر پرسن طلعت حسین اپنے انجام کو پہنچ گیا، صحافت کی سب سے بڑی وکٹ گر گئی، طلعت حسین نے اپنی ٹویٹ میں پیغام دیا ہے کہ میں جیو چھوڑ رہا ہوں … شروع سے لیکر آخر تک میرا پروگرام دیکھنے کا شکریہ…نیا پاکستان پروگرام جاری رہے گا…چینل چھوڑ رہا ہوں صحافت نہیں.

الله کا شکر ہے کہ کہ سی اے کا بڑا مہرہ طلعت حسین اپنے انجام کو پہنچ گیا. آپکو ہم نے پہلے بھی بتایا تھا کہ میڈیا کا بحران شدید سے شدید تر ہوتا جارہا ہے. اس لیے جیو نیوز نے طلعت حسین کو نوٹس دے دیا ہے کہ چینل کو چھوڑ دیں لہٰذا اب طلعت حسین نے بھی اپنی اس بات کو آفیشل کر دیا ہے کہ وہ اب جیو چھوڑ رہے ہیں. جیو تو اپنی تباہی کہ آخری دھانے پر کھڑا ہے. یہ طلعت حسین وہی اینکر ہے جس نے اسرائیل کے ایجنڈے پر کام کرتے هوئے، اسرائیلی طیارے کی پاکستان میں لینڈنگ کی غلط خبریں پھیلائیں، اور یہ سی آئی اے کا ایک ایسا مہرہ ہے جسکا صرف ایک ہی منشور ہے فوج کو بدنام کرنا، آئی ایس آئی کو بدنام کرنا، عدلیہ کے خلاف کام کرنا، اور ن لیگ سمیت ہر کرپٹ سیاستدان کا رکھوالا بننا.

شروع شروع میں جب طلعت حسین نے صحافت کا آغاز کیا تو اسے بہت اچھا اور ایماندار صحافی مانا جاتا تھا لیکن یہ بھی سی آئی اے اور ملک دشمن عناصر کی ایک چال تھی. انکا تھا کہ پہلے طلعت حسین اچھا بن کر پاکستان میں نام بنا لیں پھر اسکے بعد اس سے پاکستان خلاف کام کروایا جائیگا. پہلے اسنے سچی سچی باتیں کر کے پاکستانیوں کے دل میں جگہ بنائی اور پھر اسنے پاکستانیوں کے اعتماد کا غلط فائدہ اٹھایا. آپ اندازہ نہیں کر سکتے کہ سی آئی اے اس طرح کے کام کروانے میں کس قدر ہوشیار ہے!

طلعت حسین اور جیو نے بڑی پلاننگ سے “نیا پاکستان” نامی پروگرام شروع کیا، عمران خان کا مذاق اڑانے کے لیے اور اس پر تنقید کے لیے. مگر یہ لوگ تو عمران خان کا مذاق اڑا رہے تھے لیکن آج یہ خود مذاق بن گئے ہیں. دنیا نیوز نے جب اپنے اینکرز کی تنخوا 35 فیصد کم کی ہے تو دیکھا دیکھی باقی سب چینلز نے بھی یہ کام شروع کر دیا ہے. اب ہوتا یہ ہے کہ یہ اگر کہیں کسی چینل پر 40-50 لاکھ لیکر کام کر رہے ہیں اور وہ چینل اگر انکو نوکری سے نکال دیتا ہے تو دوسرا چینل انکو 10-15 لاکھ کی آفر کریگا. ظاہر ہے اب یہ اتنے سستے میں تو کام نہیں کریں گیں. یہ محب الوطن کا لبادہ اوڑھ کر ملک دشمن عناصر سے لاکھوں ڈالر کماتے تھے لیکن اب انکو اپنے اصل گھناونے چہروں کے ساتھ پاکستان مخالف کام کرنا ہوگا، یہ لوگ اب ڈائریکٹ خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ مل کر دشمن کے آلا کار بن کر کام کریں گیں.

میڈیا کا خرچہ 100 روپے ہے اور کمائی صرف 50 روپے ہے. تو بتائیں پھر یہ میڈیا چلتا کیسے ہے؟ یہ میڈیا ملک ریاض جیسے لوگوں، سیاسی لوگوں، ن لیگ، پیپلز پارٹی اور پھر خفیہ ایجنسیاں جیسے سی آئی اے، را، مساد وغیرہ کی بدولت چل رہا ہے اور کمائی کر رہا ہے. تمام میڈیا ہاؤسز منی لانڈر کیے هوئے پیسے باہر سے وصول کرتے ہیں. یہ عمران خان کو منی لانڈرنگ پر قانون بنا رہے ہیں اس پر ان تمام میڈیا چینلز کی چیخیں نکل رہی ہیں. راؤف کلاسرا ہو یا جیو کوئی بھی چینل ان کرپٹ لوگوں اور پاکستان خلاف خفیہ ایجنسیوں کی مدد کے بغیر نہیں چل سکتا. علاوہ ازیں جو ماڈلز اور اداکارائیں ایان علی کی طرح منی لانڈرنگ کرتی رہی ہیں اور جو اینکرز ملک ریاض جیسے کرپٹ بندوں سے پلاٹ اور گاڑیاں لیتے رہے ہیں، یہ سب پھنسنے والے ہیں.

ہم یہ بات آپکو پہلے بھی بتا چکے ہیں کہ عمران خان نے جیسے ہی منی لانڈرنگ پر قابو پایا ہے اور ملک کی 18 این جی اوز کو بند کیا ہے تو اس بکاؤ میڈیا کے طوطے اڑ گئے ہیں اور اب انکی جیب اتنی ہے ہی نہیں کہ صحافیوں کو 80 80 لاکھ ماہانہ تنخواہوں پر رکھیں. آگے آنے دنوں میں آپ خود دیکھیں گیں کہ صحافت کی کتنی بڑی بڑی وکٹیں گرتیں!