خاور مانیکا کی اندرونی کہانی منظر عام پر آگئی


ضلع پاک پتن کے آفیسر رضوان گوندل کا مسئلہ سب ہے ملک کی سب بڑی عدالت پہنچا تو چیف جسٹس ثاقب نثا ر کی سربراہی میں تین روکنی بینچ کے سامنےپنجاب پولیس کے سربراہ کلیم امام انکوئری کمیٹی کے سربراہ ابوبکر خدا بخش علاقائی پولیس آفیسر شاہد اورضوان گوندل پیش ہوئے تینوں آفیسر نے عدالت کے سامنے اپنا مؤقف بیان کی چیف جسٹس نے ان سے پوچھا کہ جی یہ کیا معاملہ ہو ہے کہ ٹرانسپر رات کو ہوا یا دن کو ہو ا ہم بار بار کہتے ہیں کہ پولیس کو آزاد یا با اختیار ہونا ہے چیف جسٹس نے کہا ہے کہ اگر پولیس کو با اختیار نہیں ہونا ہے تو پھرمرضی ہے ۔چیف جسٹس نے کہا ہے اگر وزیراعلی کے کہنے پہ تبادلہ ہو ا ہے یا اس کے پاس کوئی بیٹھا ہے تو یہی ہوتا ہے اور انہوں نے کہا کہ پولیس افیسر کیوں ڈھیرے پہ چلا جائےاور معافی مانگ لیں ۔ خاور مانیکا کہاں ہے؟جمیل گجر کہاں ہے ۔ آئی جی کلیم امام نے کہاکہ مجھے نہیں پتہ کہ جمیل گجر کہاں ہے چیف کسٹس نے کہا کہ آپ کو پتہ ہے کہ کیا ہو ا ہے کلیم امام نے کہا ہے کہ میری سروس کے 13 سال ہوئے ہم نے دیانت داری سےکام کیا اور اقوامتحدہ کے لئے کام کیا اور حکومت نے تمغہ دیا اور اس پر چیف جسٹس نے ٹوکا ۔۔۔۔۔مذید تفصیلات کے لئے ویڈیو ملاحظہ کریں ۔۔اگر آپ کو ہماری پوسٹ اچھی لگے تو کمینٹ میں اپنی رائے کا اظہار ضرور کریں اور اس پوسٹ کو اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں

You cannot copy content of this page