نیب نے قومی خزانہ بھر دیا، جانتے ہیں کتنے سو ارب روپے جمع کروادیے؟ واہ جی واہ، یہ ہوئی نہ بات


پاکستان کو بدعنوانی سے پاک کرنے کے لیے چیئر مین نیب کی بھرپور کوشش، میگا کرپشن مقدمات کو منتقی انجام تک پہنچانے کے لیے نیب سرگرم، نیب کی حالیہ پالیسیوں میں نوجوانوں کی اہمیت، 297 ارب قومی خزانے میں جمع کروا دیے…

تفصیلات کے مطابق چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے نیب ہیڈ کوارٹر میں نیب کے علاقائی بیروز کی ماہانہ کارکردگی سے متعلق جائزہ لینے والے اجلاس کی صدارت کے دوران کہا کہ نیب نے 297 ارب روپے قومی خزانے میں جمع کروا دیے ہیں. اجلاس کے دوران نیب کے تمام علاقائی بیوروز، پراسیکیوشن، آپریشن ڈویژن سمیت نیب ہیڈ کوارٹرز کے تمام شعبوں کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان پاکستان کا مستقبل ہیں۔ نیب اپنی حالیہ پالیسیوں میں نوجوانوں کواہمیت دیتا ہے۔ شفافیت میرٹ اور قانون پرعمل پیرا ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نیب کے تمام علاقائی بیوروز کی کارکردگی کا ماہانہ، سہ ماہی ، ششماہی اور سالانہ بنیادوں پرجائزہ لیا جا رہا ہے اور تمام متعلقہ شعبوں کی مانیٹرنگ اور ایویلیوایشن کا نظام وضع کیا گیا ہے۔ چیئرمین نیب نے نیب کے تمام علاقائی بیوروز کی بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے کوششوں کی تعریف کی اور ہدایت کی کہ وہ بدعنوان سے لوٹی گئی رقم وصول کرنے کیلئے اپنی کوششیں دوگنا کریں کیونکہ نیب ہر قیمت پر پاکستان کو بدعنوانی سے پاک بنانے کیلئے پرعزم ہے۔

چیئرمن نیب نے کہا کہ کرپشن ملک کی ترقی میں بڑی رکاوٹ ہے. میگا کرپشن مقدمات کو آخری انجام تک پہنچانا ہماری سب سے پہلی ترجیح ہوگی. اور نوجوان پاکستان کا مستقبل ہیں. اس لیے نیب نے اب ازسرنو جو پالیسیاں بنائیں ہیں ان پالیسیوں میں نوجوانوں کو اہمیت دی جارہی ہے تاکہ انہیں ابتدائی عمر میں ہی ہر قسم کی کرپشن سے متعلق آگاہی دی جاسکے. اس ضمن میں نیب نے ملک بھر میں مخلتف یونیورسٹیوں اور کالجز میں 55 ہزار کردار سازی کی انجمنیں بنائی ہیں. انکا مقصد یہ ہوگا کہ نوجوانوں کو بدعنوانی کے برے اثرات سے آگاہی فراہم کی جائے. انہوں نے کہا کہ ماہانہ، ششماہی اور سالانہ بنیادوں پرجائزہ لے رہا ہے۔ نیب نے لوٹی ہوئی دولت میں 297ارب روپے قومی خزانے میں جمع کروا دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام مقدمات کو نمٹانے کیلئے شکایات کی جانچ پڑتال، انکوائریوں اور انوسٹی گیشنز کیلئے وقت کا تعین کیا گیا ہے۔

You cannot copy content of this page