news-1441277413-1772

اربوں روپے کی بدعنوانی میں ملوث بڑی مچھلیوں کے خلاف تاحال نیب نے کارروائی نہیں کی

اسلام آبا(روزنامہ ۔۔۔۔۔03ستمبر 2015) اربوں روپے کی بدعنوانی میں ملوث بڑی مچھلیوں کے خلاف تاحال نیب نے کارروائی نہیں کی۔گزشتہ چند دہائیوں سے اربوں روپے کی بدعنوانی میں ملوث کچھ بڑی مچھلیوں کے خلاف نیب کو کارروائی کا آغاز ابھی کرنا ہے ،جن میں کچھ بڑی کاروباری شخصیات ، اسٹاک ایکس چینج بروکرز مشروف دور کے اعلیٰ عہدیدار شامل ہیں۔ سی ڈی اے جیسی اتھارٹیز اور وفاقی اور صوبائی حکومتوں ملی بھگت سے جعلی ہاؤسنگ سوسائٹیز اور ٹاؤنز میں فرضی پلاٹوں کی فروخت کرکے لاکھوں غریب افراد سے اربوں روپے اینٹھے گئے۔ صرف وفاقی دارا لحکومت اسلام آباد میں رئیل اسٹیٹ کے کاروبار سے منسلک کچھ بڑی کاروباری شخصیات نے 30سے 40لاکھ پلاٹس فروخت کرکے اربوں روپے کی لوٹےاور ا اربوں روپے کی بدعنوانی میں ملوث بڑی مچھلیوں کے خلاف تاحال نیب نے کارروائی نہیں کیحتسابی ڈھانچے سمیت تمام سرکاری اداروں کو خاموش کرانے میں بھی کامیاب رہے۔ اسٹاک ایکس چینج میں ہونیوالی جعلسا زیاں رپورٹ ہوئیں اور انکی تحقیقات بھی ہوئی، ذمہ داروں کی نشاندہی کی گئی لیکن تمام اتھارٹیز پراسرار طور پر خاموش ہیں، اور جو ا س سطح کی لوٹ مار کرتے ہیں وہ تمام حصہ داروں کو حصہ دیتے ہیں ، جس کے نتیجے میں انہیں ریاست کی پوری مشینری کا تعاون حاصل ہوتا ہے۔ پاکستان میں بااثر افراد نیب ، ایف آئی اے اور دیگر تمام احتسابی اداروں اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں پر غالب ہونےمیں کا میا ب رہتے ہیں ۔ مشرف دور حالیہ ادوار میں بدعنوانی ترین دور سمجھا جاتا ہے لیکن اس دورکے ایک بھی کیس پر نیب کی تحقیقات جاری نہیں ہیں ، باوجود اس کے کہ مختلف کیسز کے تمام شواہد یا تو ادارے کو فراہم کیے گئے یا پھر اسکے اپنے افسران نے حاصل کیے، جن کی بعد میں سرزنش کی گئی اور خاموش رہنے کاکہا گیا۔روزنامہ جنگ کے تجزیہ کاراحمد نورانی کی ایک تجزیاتی رپورٹ کے مطابق مشرف دور اسٹاک ایکس چینج میں ہونیوالے فراڈ کو پاکستان کی تاریخ کی بدترین مالیاتی جعلسازی سمجھا جاتا ہے ۔ اسٹیل ملز کی نجکاری اور شوگر اسکینڈلز جیسے کیسز کو نیب کی جانب سے ابھی حل کیا جانا باقی ہے۔ مشرف دور کے مشہور آئل اسکینڈل اور جکارتہ سفارتخانے کی عمارت میں بڑے پیمانے پر کرپشن کیس کی بابت نیب کے افسران کے پاس تمام شواہد موجود ہیں اور انہیں محض اس سلسلے میں اپنے اعلیٰ افسران کی اجازت درکار ہے ۔ نیب کے افسران سے جب مشرف دور میں ایوان صدر اور سیاستدانوں کو پلاٹ الاٹ کیے جانے کے بارے میں سوالات کیے جاتے ہیں تووہ ان کے جوابات دینے سے گریزاں رہتے ہیں۔ وہ اعتر ا ف کرتے ہیں کہ انکے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں اور ناقابل تردید شواہد کی موجودگی کے باوجود وہ مشرف کے اثاثوں کے بارے میں کیس کی تحقیقات نہیں کرسکتے۔ اس سب کے باوجود گزشتہ 2سالوں سے نیب ہر دوسرے اور تیسرے روز دوتین کلرکس، پٹواریوں اور نچلے درجے کے افسران کو گرفتار کرتا رہتا ہے۔ حال ہی میں بڑے سیا ستد ا نوں اور افسران کو گرفتار کیا گیالیکن وہ بھی نیب کی جانب سے نہیں کیا گیا۔ تاہم نیب کے ترجمان نوازش علی عاصم نے دی نیوز سے بات کرتے ہوئےادارے کا دفاع کیا اور کہا کہ نیب روزانہ کی بنیاد پر کرپٹ عناصر کے خلاف کارروائی کررہا ہے اورملکی قانون کے تحت ہر بدعنوان شخص کے خلاف کارروائی ہورہی ہے۔ انہوں نےکہاکہ چیئرمین نیب کا پختہ عزم ہےکہ قانون کے مطابق شفافیت کے ساتھ میرٹ پر عدم برداشت کی پالیسی اپنانے ہوئے بلاتفریق احتساب کیا جائے ۔ نیب ترجمان نے کہاکہ نیب کی پالیسی کسی کے اثرورسوخ یا عہدےکو خاطر میں لائے بغیر تمام کرپٹ عناصر کے خلاف کارروائی کرنا ہے۔