پاک چین اقتصادی راہدی کے سب سے بڑی مخالف سمجھے جانے والے ایران نے حیت انگیز یپشکش کردیا

news-1441195061-5004

اسلام آباد (آن لائن/روزنامہ 2ستمبر2015)ایران نے بھی پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے میں حصہ بننے پر رضامندی ظاہر کی ہے ۔اس کا مقصد پاکستان اور ایران کے درمیان مارکیٹوں ، سڑکوں اور ریلوے نیٹ ورک کو اپ گریڈ کرنا ہے ۔میڈیا رپورٹ کے مطابق وزارت تجارت کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا ہے کہ پاکستان نے ایران کو پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کا حصہ بننے کے لئے اور سرحدی مارکیٹوں کے استحکام ، ریلویز اور سڑکوں کی اپ گریڈیشن اور بارڈر کراسنگ پوائنٹ کی اپ گریڈیشن کے لئے شرکت کی دعوت دی ہے ۔پاک ایران جوائنٹ ورکنگ گروپ اور تجارت بارے ٹیکنیکل کمیٹی کا اجلاس گزشتہ دنوں منعقد ہوا ۔ طرفین نے سرمایہ کاری اور تجارت سے متعلق معاملات پر تبادلہ خیال کیا اور باہمی تجارت کو فروغ دینے کے لئے سٹرٹیجک پلان پر بھی غور کیا۔یہ ملاقات عالمی برادری کی جانب سے ایران پر عائد پابندیوں کے اٹھائے جانے کے تناظر میں کی گئی ۔رپورٹ کے مطابق طرفین نے دوطرفہ ترجیح تجارتی معاہدے کی ضرورت پر زور دیا ۔ جس میں شفافیت کے فروغ پر زور دیا گیا ۔ متوقع فریٹ ٹرینوں کے آپریشن پر بھی غور کیا گیا اور ایرانی وفد کو یادہانی کرائی گئی کہ رواں سال مئی میں زیدان کے اجلاس میں پاکستان نے باقاعدہ بنیادوں پر سروس شروع کی ضرورت پر زور دیا تھا ۔وزارت تجارت کے عہدیدار کا کہنا تھا کہ ایرانی وفد تمام تجاویز کو اپنے ملک کے متعلقہ حکام کو پہنچائے گا اور فیصلوں بارے آگاہ کرے گا ۔انہوں نے کہا کہ ایران خود کو راہداری منصوبے کو جھوڑنا چاہتا ہے تاکہ علاقائی ممالک کے ساتھ اپنی مارکیٹوں کو وسعت دے سکے ۔

دلچسپ عنوان
  آرمی چیف کی زیر صدارت سیمینار قومی اداروں کی نگرانی کیلئے نیا ادارہ بنانے کی تجویز مسترد کردی گئی