پیمرا اور پریس ریگولیٹری کو ختم کرنے کا فیصلہ! اب کونسا اداراہ قائم کیا جائے گا؟


پی ٹی آئی رہنما اور وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے پیمرا اور پریس کونسل کو ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کے پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی بنائیں گے جو پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی نگرانی کرے گی۔

پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےوزیراطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن کو صدارتی امیدوار نامزد کرنا عقل سے بالاتر ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن اس پارلیمنٹ کے اراکین کو جعلی کہ چکے ہیں اور اب وہ صدر بننے کیلئے اسی جعلی پارلیمنٹ کے اراکین سے انہیں ووٹ دینے کی درخواست کر رہے ہیں۔مولانا کیلئے چیزیں حلال اور دوسروں کیلئے حرام ہیں۔

فواد چوہدری نے اپوزیشن کی جانب سےسینیٹ اجلاس سے واک آؤٹ کرنے پرتنقید کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن بلا جواز طور پرروڑے اٹکا رہی ہے ۔ سینیٹ کی ایک دن کی کاروائی میں پاکستانی قوم کے لاکھوں روپے خرچ ہوتے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کا ہر روز سینیٹ سے واک آؤٹ کرنا ان کے غیر پارلیمانی اور غیر جمہور ی رویے کی نشاندہی کرتا ہے۔ عمران خان نے سینیٹ کے پہلے اجلاس میں ہی شرکت کر کے سینیٹ کو عزت دی ہے۔ نواز شریف گزشتہ 5 سال میں ایک بار بھی سینیٹ میں نہیں آئے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان نے اپنے تمام وزرا کو ہدایت کی ہے کہ اپنے تمام ضروری کاموں کو چھوڑ کر سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاسوں میں اپنی حاضری کو یقینی بنائیں، اپوزیشن جماعتوں کو بھی منفی سیاست چھوڑ کر سنجیدہ سیاست کرنا ہوگی۔حکومت اور اپوزیشن دونوں کی ذمہ داری ہے کہ سینیٹ کو احسن طریقے سے چلنے دیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ پی ٹی وی میں سنسر شپ ختم کردی ہے، پاکستان ٹیلیوژن (پی ٹی وی) نیشنل کانام بدل کر پی ٹی وی سیاست کیاجارہا ہے، جس میں سینیٹ، قومی و صوبائی اسمبلیوں کی کارروائی اور کمیٹیوں کے اجلاس براہ راست دکھائے جائیں گے۔ ساری قوم دیکھے گی کہ ان کے منتخب نمائندے پارلیمنٹ میں کیا کر رہے ہیں۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ گزشتہ حکومت اشتہاروں پر ہی چل رہی تھی،گزشتہ وفاقی حکومت نے اشتہارات کی مد میں 23ارب روپے خرچ کیے ،اشتہارات کی پالیسی پر نظرثانی کرنے کیلئے ریویو کمیٹی بنائی ہے جو تمام معاملات کا جائزہ لی کر اپنی رپورٹ پیش کرے گی ۔

انہوں نے کہا کہ پیمرا اور پریس کونسل کو ختم کرکے نیا نگراں ادارہ پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، پریس کونسل صرف پرنٹ میڈیا کو اور پیمرا الیکٹرانک میڈیا کے معاملات دیکھتا ہے، یہ ادارہ الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے ساتھ سائبر میڈیا کی بھی نگرانی کرے گا۔انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی(پیمرا) کےقانون پر بھی نظر ثانی کرے گی۔حکومت سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق میڈیا کیلئے کوڈ آف کنڈکٹ بھی بنائے گی۔

فواد چوہدری نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب اور وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے ہیلی کاپٹر کے استعمال کو ایک قومی مسئلہ بنادیا گیا ہے اور شدت پسندی کو ہوا دی جا رہی ہے۔پاکستان تحریک انصاف جمہوری جماعت ہے جو میڈیا اور اس کی تنقید کو اہمیت دیتی ہے اسی وجہ سے ہم پر تنقید بھی زیادہ کی جاتی ہے۔ عمران خان کو ملک کے اندر اور ملک کے باہر سے بھی شدید خطرات ہیں اس لیے عمران خان کوئی پروٹوکول نہیں لے رہے بلکہ ریاست کی ذمہ داری کے مطابق ان کو سیکیورٹی فراہم کی جا رہی ہے۔

نواز شریف کو بھی روزانہ جیل سے احتساب عالت سیکیورٹی میں منتقل کیا جاتا ہے جس پر بہت خرچہ آرہا ہے،ان کا جیل میں ہی ٹرائل ہونا چاہیے کیونکہ جیل میں تمام سہولیات موجود ہیں۔بہتر ہوگا کہ نواز شریف کا ٹرائل جیل کے اند ہو تاکہ غیر ضروری اخراجات سے بچا جا سکے۔

وزیراطلاعات نے عامر لیاقت سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پی ٹی آئی کے اندر جو فارورڈ بلاک بننے کی بات کی ہے اس پر یہ ہی کہ سکتا ہوں کہ اللہ ہدایت دے۔