آسٹریلیا میں دانتوں کو چمکانے کے لئے ”کوئلہ منجن “عورتوں میں بے حد مقبول ہے


لاہور (حکیم محمد عثمان ) ہمارے ہاں یہ سوچ بری طر ح پھیل چکی ہے کہ اگر ہمارے ہاں قدیم طب کے مطابق صحت کو بحال رکھنے کے لئے ٹوٹکوں کو استعمال کیا جائے تو یہ انتہائی فرسودہ عمل متصوّر ہوگا حالانکہ امریکہ سے آسٹریلیا تک سبھی متمدن اور عہد جدید کے حامل ملکوں میں قدرتی اور نباتاتی علاج اور ٹوٹکے پورے اعتماد سے استعمال کئے جاتے ہیں۔گزشتہ ماہ جب مجھے آسٹریلیا میں ایک دوروزہ ایکسپو میں شمولیت کا موقع ملا تو سٹالوں پر آسٹریلیامیں مقبول عام ہربل میڈیسن کا طوطی بولتانظر آیا ۔خاص کر کوئلے سے بنا منجن دیکھ کر روح خوش ہوگئی ۔یہی منجن پاکستان کے دور افتادہ علاقوں میں بھی اب شاید ہی استعمال ہوتا ہوگا حالانکہ چند دہائیاں پہلے کوئلے کا منجن انڈوپاک میں دانتوں کو صاف رکھنے کے لئے استعمال کیا جاتا تھا ۔لیکن طب مخالفت کی وجہ سے یہ قدرتی منجن بھی پروپیگنڈے کا شکار ہوگیا۔آسٹریلیا میں کوئلے کے منجن کو سُپر کلینر کہا جاتا ہے ۔یہ انتہائی خوبصورت ڈبیہ میں سیل کیا جاتا ہے اور کئی ملک اس منجن کو امپورٹ کرتے ہیں ۔کوئلے میں زہریلے موادکو جذب کرنے کی صلاحیت ہے ،اسکی پیسٹ یا پاوڈرجب دانتوں پر لگایاجاتا ہے تو دانت چند دنوں میں ہی چمکدار ہونے لگتے ہیں۔آسٹریلوی خواتین خاص طور پر اس منجن کو افزائش حسن کے لئے استعمال کرتی ہیں۔

آسٹریلیا دنیا میں کوئلے کے ذخائر رکھنے والا چوتھا بڑا ملک ہے جہاں کوئلے کو ایندھن کے علاوہ طب کے لئے استعمال کیا جارہا ہے ۔آسٹریلوی ماہرین کا کہنا تھا کہ کوئلہ منجن دانتوں کی چمک اور مسوڑوں کی مضبوطی کا بہترین علاج ہے۔شراب نوشی اور سخت سردی کی وجہ سے آسٹریلوی لوگوں کے دانتوں کی پیلاہٹ بڑھ جاتی ہے جس کا علاج وہ کوئلہ منجن سے کرتے ہیں۔ طب میں کیکر کے کوئلے کو باریک پیس کر صبح و شام مسوڑھوں کی سوجن دورکرنے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس قدرتی منجن سے دانتوں کے تمام دھبے ختم ہوجاتے ہیں ۔یہ چمک کسی بھی بڑے برانڈ کے ٹوتھ پیسٹ سے زیادہ فائدہ مند ہے۔