ناف کے نیچے بال کب اور کیسے کاٹے جائیں؟

حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مونچھیں کترنے اور ناخن کاٹنے اور بغلوں کے بال صاف کرنے اور زیر ناف بال صاف کرنے کا حکم دیا، اور ہمارے لیے(رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے یہ ) مدت مقرر کی گئی کہ ہم ان بالوں کو چالیس دن سے زیادہ نہ چھوڑے رکھیں (یعنی ان چیزوں کی صفائی کی زیادہ سے زیادہ مدت چالیس دن ہے)

لہٰذا معلوم یہ ہوا کہ زیر ناف بالوں کی صفائی کی زیادہ سے زیادہ مدت چالیس دن ہے، اس عرصے میں ضرور صفائی کرلینی چاہیے، اب رہی یہ بات کہ زیر ناف بال کہاں تک کاٹنے چاہیے تو اس سلسلے میں یاد رہے کہ: “زیر ناف” کا لفظ کنایہ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، حدیث میں زیر ناف بالوں کے لئے عانہ” کا لفظ استعمال ہوا ہے جسکا اہل لغت نے ترجمہ کیا ہے ” شرمگاہ کے گرد اگنے والے بال”

مطلب یہ ہوا کہ کہ ناف کے نیچے دائیں بائیں جو بال ہو نیز خصیتین (انڈوں) اور ذکر پر جو بال ہوں اس کے اردگرد اور اس کے مقابل رانوں کا وہ حصہ جہاں نجاست لگنے کا خطرہ ہو سب کو صاف کرنا چاہیے۔ نیز مقعد کے اردگرد کے بالوں کو صاف کرنا چاہیے، بلکہ بعض فقہاء نے مقعد کے اردگرد بالوں کے بارے میں زیادہ تاکید کی ہے۔ الغرض سبیلین کے آس پاس موجود تمام بالوں کا تلف کرنا ضروری ہے تاکہ صفائی برقرار رکھ سکے،

فتاویٰ عالمگیریہ اور دیگر کتب فقہ میں لکھا ہے :

“و يبتدی فی حلق العانة من تحت السرة. (عالمگيری، 5 : 358)

کہ ناف کے نیچے سے کاٹنا شروع کرے،

(٢) مردوں کے لیے استرہ وغیرہ استعمال کرنا اور عورتوں کے لیے اکھاڑنا مستحب ہے، البتہ کریم پاوٴڈر کا استعمال دونوں کے لیے جائزہے