نطفے سے لباس کے آلودہ ہونے بارے دو متضاد دعوے سامنے آگئے


جکارتہ (اردو آفیشل)انسانی نطفہ کو اسلامی نقطہ نگاہ سے ایک ناپاک چیز قرار دیا گیا ہے۔ اس کے اخراج سے مردوخواتین پر غسل کی فرضیت ہوجاتی ہے اسی طرح لباس پر اس کا لگ جانا بھی اس بات کا متقاضی ہے ہ کپڑوں کو دھو دیا جائے۔ تاہم اس نقطہ پر انڈونیشیا کے علما کرام میں اختلاف پیدا ہو گیا ہے ۔

اس ضمن میں شرعی مسائل پر مبنی ایک دینی پروگرام میں پوچھے گئے سوال پر کہ کیا نطفے (منی) کے اخراج سے لباس کا دھونا لازمی ہوجاتا ہے یاکوئی اور بھی صورت ہے ،کہ عالم دین کا کہنا تھا کہ تھا کہ اگر یہ غلیظ مادہ لباس پر اتنی دیر لگا رہے کہ خشک ہو جائے تو اسے انگلی کے ناخن سے کھرچ لینے سے لباس کو دھونے کی ضرورت باقی نہیں رہتی ۔اس جواب پر سوشل میڈیا پر دنیا بھر کے مسلمانوں میں نئی بحث چھڑ گئی۔ تاہم اسی گرما گرم موضوع کو زیر بحث لاتے ہوئے انڈونیشیا ہی کے ایک اور عالم دین نے اس جواب کی تردید کی ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف تو یہ جانتے ہوئے بھی کہ لباس اس غلیظ مادے سے آلودہ ہو گیا ہے ۔ اس کے پڑے رہنے اور خشک ہونے کا انتظار کرنا بھی نجس ہے اور غیر مناسب ہے اسے جلد از جل دھو لینا بہتر ہے۔تاہم اگر کسی وجہ سے یہ مادہ خشک ہوبھی جائے مثال کےطور پر دھونے کےلئے پانی میسر نہ ہو یا کوئی بھی اور وجہ ہو تو اسے انگلی سے کھرچ لینا ایک قبیح عمل ہے اور کھرچنے سے لباس پر لگے مادے کا مکمل طور پر صاف ہونا جانا مشکوک رہتا ہے۔

You cannot copy content of this page