وہ ملک جہاں سورج غروب نہیں ہو تا


دنیا بھر میں جب مسلمان روزہ رکھتے ہیں تو اس کی ابتدا سحری سے ہوتی ہے اور اختتام پر افطار پر ہوتا ہے اور وہ ایک مخصوص وقت ہوتا ہے جس کا تعلق سورج کے طلوع و غروب سے ہے کچھ ممالک ایسے بھی ہے جہاں سورج غروب ہی نہیں ہوتا اور کی کے مہینے سورج سر پر منڈلاتے دکھائی دیتا ہے اس کی مثال سے فن لینڈ سویڈن اور ناروے ہےایسے ممالک میں رہنے والے مسلمانوں کے لیے رمضان میں انتہائی دشواری ہوتی ہے کیونکہ وہاں پر افطاری اور سحری کا وقت بہت مختلف ہوتا ہے اور وہ دوسرے ممالک کے ساتھ اپنے اوقات کو تبدیل کرنے اور ان کے مطابق روزہ رکھنے اور روزہ کھولنے پر مجبور ہوتے ہیں
ایسے لوگوں کا روزہ کتنا طویل ہوتا ہے

اور وہ کیسے افطار اور سحری کرتے ہیں اس کے بارے میں علمائے کرام نے مختلف طرح کی رائے ظاہر کی ہےکچھ علماء کرام کا موقف یہ ہے کہ جس طرح باقی ممالک کے میں طلوع سحر سے لے کر غروب آفتاب تک روزہ رکھا جاتا ہے ایسے ہی ان ممالک کے سورج کے معاملات کے مطابق روزہ رکھنا چاہیے اس کے بارے میں ایک صارف کا یہ کہنا تھا کہ ہمارے تجربے کے مطابق سورج صرف 55 منٹ کے لیے غروب ہوتا ہے اور اگر اس کے مطابق روزہ رکھا جائے تو روزہ 23 گھنٹے سے زائد کا بنتا ہے جبکہ کچھ لوگوں نے اس کے برعکس دوسرے فتاویٰ جات پر عمل اپنا معمول بنایا ہوا ہے ان کے مطابق پڑوس والے ممالک کے جہاں پر سورج اپنے وقت کے مطابق طلوع اور غروب ہوتا ہے ان کے اوقات کے مطابق روزہ رکھنا چاہئے اور روزہ کھولنا چاہئے جبکہ کچھ لوگ سعودی عرب کو مثال بنا کر اس کے مطابق روزہ رکھتے ہیں اور افطار کرتے ہیںمزید تفصیلات جاننے کے لیے ویڈیو ملاحظہ کیجئے

You cannot copy content of this page