پوری دنیا کو بدترین دھوکہ دیا گیا


حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی بھی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے اپنی امتوں کو دجال سے نہ ڈرایا ہو اور میں بھی تمہیں دجال سے خبردار کرتا ہوں یاد رکھو وہ ایک آنکھ سے کانا ہوگا اور اس کے ماتھے پر بالکل واضح طور پر کافر لکھا ہوا ہوگا دجال کے بارے میں بہت سارے دعوے کیے گئے ہیں اور مختلف لوگوں کو دجال قرار دیا گیا ہے اور اس کی تشریح کے اندر بھی وہ ساری باتیں کی جاتی ہے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ دجال اسے شخص کا نام نہیں بلکہ اس سے مراد ایک نظام ہے اور موجودہ دور کے اندر امریکہ دجالیت کا سب سے بڑا مظہر ہے لیکن جمہور علماء فرماتے ہیں کہ دجال سے مراد ایک شخص ہے جو قرب قیامت میں آئے گا اور اللہ تعالی نے اس کو ایسے عجیب خرق عادت طاقت عطا فرمائی ہو گی جس کو دیکھ کر لوگ اس پر ایمان لانا شروع ہو جائیں گے

وہ جہاں چاہے گا وہاں بارش ہوگی جہاں چاہے گا وہاں تباہی ہو گی بادلوں کو حکم دے گا تو برسنے لگ جائیں گے پانی کو حکم دے گا تو خشک ہوجائے گا زمین کو حکم دے گا تو فراوانی کے ساتھ پھل نکلنے لگیں گے اور ایسے ہی فصلوں کی بہتات ہو گی جو اس کے دوست ہوں گے وہ بہت خوشحال ہوں گے اور جو اس کے دشمن ہوں گے وہی حقیقت میں مومنین ہوں گے اسکی قیادت میں یہودیوں کا ایک لشکر ہو گا اور اس کے ساتھ مسلمان جو اس کے ان طاقتوں کو دیکھ کر متاثر ہوئے ہوں گے اور اس پر ایمان لائے ہوں گے وہ بھی لشکر کا حصہ ہوں گے وہ پوری دنیا میں پھیلے گا اور کوئی بھی ایسا شخص نہیں ہوگا جس تک اسکا پیغام نہ پہنچا اس کے ایک ہاتھ میں جنت ہوگی اور ایک آدمی آگ ہوگی وہ لوگوں کو کہے گا میرے ساتھ چلو میں تمہیں اس جنت کا وارث بنا دوں گا لیکن اگر میری مخالفت کرو گے تو میں تمہیں اس آگ میں ڈال دوں گا اور اس کی آگ ہی دراصل جنت ہوگی اور اس کے ہاتھ میں جو جنت ہوگی وہ دراصل جہنم کا ایک مظہر ہوگئی موجودہ دور میں اسرائیل کے سائنس دان اور ان کی پوری قوت و طاقت ہو اس کام میں لگی ہوئی ہے کہ دجال کے آنے سے پہلے جو ضروری کام کرنے ہیں وہ جلدی سے پورے کیا جاسکے اس کے لئے وہ پوری طرح سے متحرک ہے لیکن ایک مسلمان ہے جو خواب غفلت میں پڑا ہوا ہے اور بالکل بھی اسے اندازہ نہیں کہ اس کے ساتھ کیا ہونے جا رہا ہے