بلوچ لڑکیا ں اپنی قمیض کے اندر کیا چپھاتی ہیں


بلوچستان کی بے مثال ثقافت نے دنیا کو خیرہ کرکے رکھ دیا ہے۔گزشتہ دنوں ایک غیر ملکی سیاح بلوچستان آیا تووہ بلوچ خواتین کی ایک قمیض دیکھ کراس وقت دنگ رہ گیا جب ایک خاتون کو اس نے قمیض کی جیب میں کافی سارا سامان ڈالتے دیکھا ۔پہلے وہ سمجھا کہ یہ تھیلا ہے جو قمیض کے ساتھ ٹانکا ہوا ہے۔

لیکن جب اسے یہ معلوم ہوا کہ یہ قمیض کی جیب ہے تو اسکی حیرانی مسرت میں بدل گئی ۔بلوچستان کی خواتین صدیوں سے پشک نامی ایک قمیض پہنتی آرہی ہیں جس پر کشیدہ کاری ہوئی ہوتی ہے۔اور کسی کو نظر نہیں آتا کہ دراصل یہ جیب ہے۔

یہ کڑھائی کا حصہ نظر آتی ہے اوراس کمال کو ہی بلوچی عروتوں کی ہنرمندی کی انفادیت کہا جاتا ہے۔یہ روائتی قمیض ہے جس کی جیب اتنی لمبی ہوتی ہے کہ دس کلو چینی ،آٹا آرام سے اس میں ڈالا جاسکتا ہے ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اس جیب کو بنانے کے لئے کم از کم دو ماہ لگ جاتے ہیں۔ جبکہ اس کشیدہ کاری میں بہت محنت صرف کی جاتی ہے۔

دلچسپ عنوان
  ”آپ ایسا ہسپتال نہیں بنا سکے جہاں شریفوں کا علاج ہوسکے“ نواجوان نے ٹی وی پروگرام کے دوران عظمیٰ بخاری سے یہ سوال کیا تو انہوں نے آگے سے فوج کے خلاف ایسی بات کہہ دی کہ اینکر کو فوری طور پر مداخلت کرنا پڑ گئی

یہ کشیدہ کاری دنیا میں سب سے مہنگی اور سب سے زیادہ وقت طلب ہے ۔ بلوچستان میں تواسکی قیمت دس ہزار ہے لیکن دوسرے شہروں میں اسکی مالیت لاکھوں روپے ہوتی ہے۔بلوچستان میں آج بھی لڑکیاں اس کشیدہ کاری کے ساتھ قمیضیں شو ق سے پہنتی ہے ۔

خاص کر بلوچستان یونیورسٹیوں کی طالبات میں اس روائتی قمیض کا شوق پید اہورہا ہے۔۔بلوچستان میں آج بھی لڑکیاں اس کشیدہ کاری کے ساتھ قمیضیں شو ق سے پہنتی ہےں ۔ خاص کر بلوچستان یونیورسٹیوں کی طالبات میں اس روائتی قمیض کا شوق پید اہورہا ہے۔