مرد اپنی بیوی کو کب اور کیوں دھوکہ دیتا ہے


شادی شدہ زندگی میں دھوکہ دینے والے مرد و خواتین کو کوئی پسند نہیں کرتا ہے تاہم ماہرین نفسیات نے متعدد ایسی وجوہات بیان کی ہیں کہ جنہیں جاننے کے بعد یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ دراصل اس معاملے میں دھوکہ دینے والے سے زیادہ قصور وار دوسرا فریق ہوتا ہے۔مثال کے طور پر ازدواجی بندھن میں بندھنے کے بعد جو مرد دھوکہ دیتے ہیں، اس کیلئے نفسیاتی ماہرین اور ریلیشن شپ ایکسپرٹس متعدد وجوہات بیان کی ہیں جن میں سے اکثریت کا تعلق بیوی کی لاپرواہی سے تھا۔شادی میں پیار، رومانس اور جذبات اس تعلق کو ہمیشہ تروتازہ رکھنے کا باعث ہوتی ہے تاہم خواتین کی اکثریت یہ فرض کرلیتی ہے کہ یہ مردوں کا شعبہ ہے۔۔

رومانس پیدا کرنا ان کے شوہر کی ذمہ داری ہے اور ایسے رومانوی تعلق کو قائم کرنے یا پیدا کرنے میں ان کا کوئی خاص کردار نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مرد اس یکطرفہ رویئے سے تنگ آکے کچھ عرصے کے بعد یہ سب کچھ چھوڑ دیتے ہیں اور جب گھر سے باہر انہیں کوئی ایسا ملتا ہے جو اس رومانس کا جواب رومانس سے دینے کو تیار ہو تو وہ اس کی جانب مائل ہونے لگتے ہیں۔مردوں کے بارے میں یہ تصور کرنا کہ محض انہیں کھانے پینے یا جسمانی خواہشات کو مٹانے کی طلب ہوتی ہے، خواتین کی سب سے بڑی حماقت ہوتی ہے۔ جس طرح خواتین کو چاہنے کا احساس پسند ہوتا ہے ، اسی طرح مرد بھی چاہتے ہیں کہ کوئی انہیں یہ احساس دلائے کہ انہیں چاہا جاتا ہے۔۔

دلچسپ عنوان
  مجھے بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ آصف زرداری پاکستان کو توڑنا چاہتے ہیں اور وہ بھارت کے ایجنٹ ہیں ،لیکن اب ۔۔۔۔پارٹی چھوڑنے والے سیاستدان کے لرزہ خیز انکشافات

خواتین کو سلائی کڑھائی، فیشن ڈیزائننگ، میک اپ ہیئر سٹائل اور اس جیسے ہی دیگر شوق ہوتے ہیں جبکہ مردوں کو کھیلوں میں زیادہ رغبت ہوتی ہے اور دوستوں کے ہمراہ وقت گزارنا پسند ہوتا ہے، شادی کے بعد جب مرد اپنے یہ شوق پورے کرنا چاہتے ہیں تو انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے ۔ اگر خواتین شدید تنقید کرنے والی فطرت کی ہوں تو مرد نہ صرف اپنے شوق کی قربانی دے ڈالتے ہیں بلکہ کچھ ہی عرصے کے بعد وہ گھر اور بیگم سے بھی اکتا جاتے ہیں۔کوئی بھی شخص ساری زندگی ایک سا نہیں رہتا ہے، اسکی عادتیں، مزاج، پسند نہ پسند وقت، حالات، عمر اور معاشرتی رویوں کے ساتھ ساتھ بدلتی رہتی ہیں۔ ایسے میں اس امر کا امکان بھی قائم رہتا ہے، کہ شادی کے چند برس بعد مردوں کو یہ احساس ہونے لگے کہ وہ اپنے ازدواجی بندھن سے خوش نہیں ہیں۔۔

دلچسپ عنوان
  ”گرمیت اور ہنی پریت ہوٹل کے ایک ہی کمرے میں ٹھہرتے تھے ،جب میں ہوٹل ان سے ملنے گئی تو باتھ روم میں ۔۔۔“ راکھی ساونت نے گرمیت کا ایک اور شرمناک چہرہ بے نقاب کر دیا

یہی ناخوشی بعض اوقات انہیں دھوکہ دینے پر بھی مجبور کر ڈالتی ہے۔انسانی ذہن تبدیلی چاہتا ہے اور یکسانیت سے اکتا جاتا ہے، کبھی کبھار ازدواجی زندگی کی ناکامی اور مردوں کی بیوفائی کی بڑی وجہ صرف اور صرف یہی اکتا دینے والی یکسانیت ہوتی ہے۔کچھ خواتین مردوں پر ضرورت سے زیادہ تنقید کرتی ہیں، وہ گھریلو امور کو اپنی مرضی سے نہ صرف چلاتی ہیں ، بلکہ اس میں وہ کسی قسم کی تبدیلی برداشت بھی نہیں کرتی ہیں، ایسی خواتین کی ازدواجی زندگی کے ناکامی سے دوچار ہونے کا امکان بھی دیگر سے کہیں زیادہ ہوتا ہے۔