آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کا حکومت سے مذاکرات کے بعد ہرتال ختم کرنے کا اعلان،شام4بجے سے تیل کی ترسیل شروع ہو گی


آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کا حکومت سے مذاکرات کے بعد ہرتال ختم کرنے کا اعلان،شام4بجے سے تیل کی ترسیل شروع ہو گی
اُردو آفیشل۔ آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن نے اوگرا حکام سے سیکرٹری پٹرولیم کی سربراہی میں ہونے والے مذاکرات کے بعد ہڑتال ختم کرنے پر رضا مندی ظاہر کردی ہے۔ آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کے رہنما یوسف شاہوانی نے کہا ہے کہ شام 4 بجے ملک بھر میں تیل کی ترسیل شروع ہو جائے گی۔
تفصیلات کے مطابق آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کی ہڑتال کے تیسرے روز ایسوسی ایشن کے نمائندوں اور اوگرا حکام میں مذاکرات ہوئے۔ مذاکرات کی سربراہی سیکرٹری پٹرولیم نے کی اور یہ اسلام آباد میں ہوئے۔ مذاکرات کے دوران آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن نے اپنا پرانا مطالبہ دہرایا اور 2009 کے اوگرا آرڈیننس میں ترمیم کی شرط رکھی ۔ اوگرا حکام نے آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کو 15 روز میں آرڈیننس میں ترمیم کا کام شروع کرنے کی یقین دہانی کرائی جس کے بعد ایسوسی ایشن نے ملک گیر ہڑتال ختم کرنے پر رضا مندی ظاہر کردی۔ دوسری جانب ایسوسی ایشن نے اوگرا حکام کی گاڑیوں کو فٹ رکھنے کی شرط بھی مان لی ہے۔
مذاکرات کامیاب ہونے کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کے رہنما یوسف شاہوانی کا کہنا تھا کہ ان کے مطالبات مان لیے گئے ہیں، حکومت نے مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ تیل نہ ملنے سے جو مشکل ہوئی اس کی ذمے داری حکومت کی ہے، شام 4 بجے سے تیل کی سپلائی شروع کر دی جائے گی۔
آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کے رہنما سلمان ترین نے کہا کہ ایک گھنٹے میں ڈپو سے تیل کی ترسیل شروع ہو جائے گی۔ حادثات ہوتے رہتے ہیں ، ہو سکتا ہے کہ کسی انسانی جان کو بچانے کیلئے احمد پور شرقیہ میں آئل ٹینکر الٹا ہو ، اس سانحے میں اتناانسانی جانوں کا ضیاع نہ ہوتا اگر لوگ وہاں سے تیل اکٹھا کرنے کیلئے جمع نہ ہوئے ہوتے، واقعات ہوتے رہتے ہیں عوام میں شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ ٹینکرزمالکان کے مطالبات تسلیم کرلیے ہیں لیکن حفاظتی اقدامات پر سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ فریقین کے درمیان معاہدہ طے کرلیا گیا ہے جس پر دونوں فریقوں کے نمائندگان نے دستخط کیے ہیں۔ معاہدے کے مطابق آئل ٹینکرز کیلئے فٹنس سرٹیفکیٹ لازمی قرار دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کی جانب سے تیسرے روز بھی ملک گیر ہڑتال جاری ہے جس کی وجہ سے پورے ملک میں تیل کی شدید قلت پیدا ہوگئی اور عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔