ایرانی وزیر خارجہ کیساتھ کیا ہوا


بھارت ایران سے تیل الیکشن کے بعد خریدنے کا فیصلہ کرے گا تفصیلات کے مطابق گزشتہ دنوں ہو ایران کے وزیر خارجہ جاوید ظریف نے انڈیا کا دورہ کیا جس کا مقصد دو طرفہ تعلقات میں مضبوطی اور ایران کے تیل کی فروخت کے بارے میں معاہدہ کرنا تھا اور ان کی کوشش ہے کہ پڑوسی اور دوست ممالک کو تیل فروخت کیا جائے او یہ تیل ڈالر کے بجائے اشیا کے بدلے میں ہوں لیکن ایران کو اس معاہدے میں مکمل طور پر ناکامی کا سامنا ہوا کیونکہ اس وقت موجودہ بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے واضح طور پر انکار کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ہم اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ ایران کے ساتھ کسی بھی قسم کا معاہدہ کرے یاد رہے پاکستان اور ایران کے درمیان بھی گیس پائپ لائن کا معاہدہ ہوا جس کے بعد ایران نے اپنے حصے کا تمام کام مکمل کر لیا ہے لیکن دوسری طرف پاکستان میں ابھی تک گیس پائپ لائن پر کام شروع نہیں کیا اور اگر کیا بھی ہے تو وہ بھی انتہائی محدود ہے

جس کی وجہ سے ایران نے پاکستان کو عالمی عدالت میں لے کر جانے نے کی دھمکی دی ہے اور کہا ہے کہ پاکستان کو ہرجانہ دینا پڑے گا کیونکہ اس کی وجہ سے سے ایران نے جو سرمایہ لگایا ہے وہ مکمل طور پر ڈوبتا ہوا دکھائی دے رہا ہے پاکستان کی طرف سے یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ عالمی طاقتوں کی طرف سے سے ایران پر مختلف طرح کی پابندی لگائی جا چکی ہے اور اگر پاکستان نے ایران سے اس طرح کی کوئی ڈیل کی کہ جو عالمی پابندیوں کے برعکس ہو تو پاکستان کو معاشی طور پر پابندیوں کا سامنا ہو سکتا ہے اس لیے پاکستان پہلے ان تمام پابندیوں کے بارے میں غوروفکر کرے گا اور اگر کوئی صورت بنتی ہو تو اس کے بعد اس پائپ لائن کو بہت جلد مکمل کر لیا جائے گا گا اس وقت ایران پاکستان کو بجلی گیس اور تیل فروخت کر رہا ہے اور یہ بھی مختلف اشیاء کی شکل میں ہے اور اس کا تبادلہ ڈالر کی شکل میں نہیں کیا جاتا مزید تفصیلات جاننے کے لیے ویڈیو ملاحظہ کیجئے