شیطان کی پجاری سعودی عرب میں


سعودی عرب اس وقت اسلام کے دامن سے نکل کر روشن خیالی کی طرف بڑھ رہی ہے اور بہت تیزی کے ساتھ یہ سفر اور یہ فاصلہ طے کیا جا رہا ہے یاد رہے اس وقت سعودیہ کے ولی عہد اسرائیل کے انتہائی قریب سمجھے جاتے ہیں جس کے ساتھ ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جو کہ خود ایک کٹریہودی ہے اور یہودی ریاست کی تکمیل کے لئے بہت زیادہ متحرک بھی ہے اور اس کے ساتھ بہت قریبی دوست بھی ہے اس کے برسراقتدار آنے کے بعد اس نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ ہم ملک کے اندر اعتدال اور برداشت کا مذہب پیدا کرنے کی بھرپور کوشش کریں گے اور اس کے ساتھ ساتھ ہماری کوشش ہوگی کہ ہم یورپ کے ساتھ بہترین تعلقات استوار کریں پہلا قدم یہ اٹھایا گیا کہ خواتین کو ڈرائیونگ کرنے کی اجازت دی گئی اس کے ساتھ ملک بھر میں سینما کھول دیے گئے جبکہ اس کے ساتھ سعودی عرب نے یہ اعلان کیا

کہ وہ شام کے بارڈر کے قریب ایک ایسا شہر بنائیں گے جہاں پر عالمی قوانین ہوں گے اور شرعی قوانین وہاں پر نافذ نہیں کیا جائیں گے صرف اس پر بس نہیں کیا بلکہ وہ علماۓ کرام کے جو سعودی عرب کے زیر شریک احکامات پر تنقید کرتے رہتے ہیں ان کو پس زندان ڈال دیا اور اس کے ساتھ کچھ ایسے علماء بھی تھے کہ جو تشدد کی وجہ سے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے حال ہی میں سعودی عرب کی طرف سے ملک بھر میں کنسرٹ منعقد کیے گئے جس میں مخلوط شرکت کو ممکن بنایا گیا اس کے بعد گزشتہ دنوں ایک اور کنسرٹ منعقد کیا گیا جو مکہ سے صرف ایک گھنٹے کے فاصلے پر تھا مزید تفصیلات کے لیے ویڈیو ملاحظہ فرمائیں

You cannot copy content of this page