مزید 2 سعودی لڑکیوں کا کینڈا میں پنا ہ لینے کا واقعہ


گزشتہ دنوں ایک خبر سامنے آئی تھی کہ جب ایک خاتون جو کہ سعودی عرب سے تعلق رکھتی تھی اس کو کینیڈا نے شہریت دی اسے کہنا تھا کہ وہاں پر میری زندگی اذیت ہو چکی تھی اور میں وہاں پر زندہ نہیں رہ سکتی تھی اس لئے مجھے سعودی عرب سے بھاگنا پڑا اس نے مزید یہ بات کی کہ سعودی عرب میں خواتین کی زندگی جہنم سے کم نہیں اس کے ساتھ دو اور خواتین کا قصہ بھی سامنے آیا کہ جو تھی اور وہ بھی سعودی عرب سے چلی گئی جو کہ ابھی مونٹریال میں رہتی ہے


ان دونوں بہنوں کا قصہ ذرا دلچسپ ہے وہ کہتی ہیں کہ باہر جانے کے لئے ہمارے قومی شناختی کارڈ کا ہونا ضروری تھا اور اس کے ساتھ ساتھ ضروری تھا کہ ہمارے پاس ہمارا پاسپورٹ بھی ہو میری چھوٹی بہن کا پاس ریکارڈ ابھی تک نہیں بنا تھا اور نہ ہی پاسپورٹ بنا تھا اس لئے ہمیں انتظار تھا کہ جی بڑی ہوجائے تو پھر ہم یہاں سے بھاگ جائیں جب اس کا شناختی کارڈ بنا تو اس کا پاسپورٹ بھی ساتھ بنا دیا گیا لیکن خوش قسمتی سے میرا شناختی کارڈ پہلے ہی سے بنا دیا گیا تھا کیونکہ مجھے یونیورسٹی میں اس کی ضرورت تھی اس کے ساتھ میرا پاسپورٹ اس وقت بنا کہ جب مجھے انگریزی امتحان دینے کے لئے اس کی ضرورت محسوس ہوئی اس سے لڑکی کا کہنا تھا کہ اس کے بعد میرے والدین نے ہم دونوں بہنوں سے پاسپورٹ اور شناختی کارڈ لے لیے تھے میں اپنے بھائی کے گھر میں رہتی تھی اور وہاں پر سارا کچھ میرا موجود تھا ایک رات کو میں اٹھی اور میں نے اپنے بھائی کے گھر کی چابیاں چرالیں اور ایک دکان سے اس کی ڈپلیکیٹ بنائیں اس کی بات کو ہم نے تمام تیاریاں کیں میں نے بھائی کی گھر میں الماری کو ڈپلیکیٹ جاوید کھولا اس سے میں نے اپنے پاسپورٹ نکالے رقم نکالی اپنی بہن کا پاسپورٹ نکالا اور اس کے ساتھ میں نے اپنے والد صاحب کا فون بھی اٹھا لیا کیونکہ خواتین کو سعودی عرب سے باہر جانے کے لیے ان کی بڑے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ اس کی اجازت دی جاسکے اس کے بعد ہم سیدھا ائیرپورٹ گئے وہاں پر ہم نے ہی ویزہ لگایا تو اس وقت سیکشن آفیسر جو موجود ہیں انہوں نے فون نمبر مانگا میں نے اپنے والد صاحب کا فون نمبر دیا تو انہوں نے چیک کرنے کے بعد بتایا کہ ٹھیک ہے آپ جاسکتے ہیں اس کے بعد ایک میسج مجھے اپنے فون پر موصول ہوا جو اس افسر کی طرف سے بھیجا گیا تھا کہ آپ کی بیٹیاں یہاں سے جا رہی ہے تو کیا آپ نے خود ان کو اجازت دی ہے جس پر میں نے اس کے جواب میں لکھا کہ اپنی بیٹی کو اجازت دے رہا ہوں کہ وہ چھوڑ کر جا سکتی ہے حالانکہ وہ خون میرے پاس موجود تھا اور میں نے ہی یہ جواب دیا تھا اس کے بعد سعودی عرب سے ہم فلائٹ پکڑ کر کینیڈا پہنچے اور یہاں پر آکر مجھے یقین ہوا کہ اب ہم آزاد ہے مزید تفصیلات کے لیے ویڈیو ملاحظہ فرمائیں

You cannot copy content of this page