سعودی عرب میں موسم میں چھیڑ چھاڑ


پوری دنیا میں اس وقت کا جس چیز کا غوغا اور شور ہے وہ یہ ہے کہ پوری دنیا اس وقت تک ایک تبدیلی کے دور سے گزر رہی ہے اور خاص کر ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے بہت سارے لوگ اور وہ ساری ریاست متاثر ہو رہی ہے حدیث مبارکہ میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تک قیامت نہیں آئے گی عرب کی وہ زمین جو خشک سالی کا منظر پیش کرتی رہتی ہے دوبارہ سے سرسبز نہ بن جائے اور اس میں نہریں بہنے لگے او کما قال علیہ السلام سعودی عرب اور دوسرے ممالک میں اتنی زیادہ بارش ہوئی ہے کہ جو تاریخ میں کبھی بھی نہیں ہوئی اس کے ساتھ ساتھ سعودی عرب مثنوی طور پر بارش برسانے کا نظام بھی اپنے ملک میں متعارف کرا چکی ہے جب کہ ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے وہاں پر سیلاب تک آ چکے ہیں اور ان کے وہ علاقے جو کہ سر سبز ہیں اور وہاں پر بارش ہوتی رہتی ہے اب ان علاقوں میں برفباری شروع ہو گئی ہے اس کی سب سے بڑی مثال طائف کا علاقہ ہے کہ جہاں پر بارش ہوتی ہے اور ایک سرسبز اور خوبصورت علاقہ ہے اس کے ساتھ یہ متحدہ عرب امارات میں بھی بہت زیادہ موسمیاتی تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ سب کچھ ہو رہا ہے اس کے پیچھے بظاہر جو وجہ نظر آرہی ہے

وہ ماحول میں گرمی کا تناسب بنانا ہے کیونکہ جو آلودگی اس وقت فضا میں موجود ہیں اس کی وجہ سے اوزون کی تہہ کمزور ہو رہی ہے اور زمین کا درجہ حرارت ہے اس کی وجہ سے بڑھ رہا ہے درجہ حرارت بڑھنے سے قطب شمالی اور جنوبی میں جو اس وقت برف کی بہت بڑی بڑی چٹانیں موجود ہے وہ پگھل رہی ہے اور اس کی وجہ سے پانی کی سطح بلند ہو رہی ہے جو کہ بارشوں کی زیادتی کا سبب بن رہا ہے اس کے ساتھ ساتھ برفباری بھی زیادہ ہو رہی ہے اس وقت ہمارے کا شدید ترین سردی کے دور سے گزر رہی ہے اور ان کے کچھ علاقوں میں اتنی زیادہ سردی ہو رہی ہے جو کہ قطب جنوبی کے علاقوں سے بھی زیادہ ہے کہا جا رہا ہے کہ مشی گن اور شکاگو میں اس سال جو برف باری ہو رہی ہے اور جو سردی پڑ رہی ہے وہ کبھی بھی نہیں ہوئی اور نہ کبھی اس طرح کی سردی پڑی
مزید تفصیلات کے لیے ویڈیو ملاحظہ فرمائیں

You cannot copy content of this page