سوڈان عرب سپرنگ کا شکار ہو گیا


دو ہزار دس کے اوائل میں عرب ممالک میں ایک تحریک شروع ہوئی جو عرب اسپرنگ کے نام سے مشہور ہوئی دراصل اس کے پیچھے مکمل یہودی لابی موجود تھی اس یہودی لابی نے کوشش کی کہ ان ممالک کے اندر جو کہ پرامن ہے اور ترقی یافتہ ہے ان کے امن کو تباہ و برباد کیا جائے اور مسلمانوں کو آپس میں لڑایا جائے اور ان کی قوت کو کمزور کیا جائے اس کے لئے سب سے پہلے ملک شام کو نشانہ بنایا گیا جس میں ایک چھوٹے سے واقعہ کو بنیاد بنا کر ایک بہت بڑی جنگ میں تبدیل کر دیا اور جس میں لاکھوں مسلمان مارے گئے اور کئی لاکھ مسلمان اپنے وطن کو چھوڑ کر ہجرت کر گئے اس کے بعد یہ احتجاج بڑھتا گیا اور اس نے لیبیا کا رخ کیا لیبیا کی معیشت اس کی وجہ سے مکمل طور پر تباہ ہوگئی اور کئی ہزار لوگ اس کی وجہ سے مارے گئے اس کے بعد یہ تحریک مصر کی طرف حرف کر گئی اور وہاں پر موجودہ حکومت جو کہ اخوان کی حکومت تھی اس کا تختہ الٹ دیا گیا اس کے بعد اس کے اثرات سعودی عرب میں بھی نظر آئے لیکن وہاں پر موجود حکمرانوں نے ہوش کے ناخن لیتے ہوئے

بہت مشکل کے ساتھ اس کو کنٹرول کیا ابھی تک یہ ممالک ہے اس عرب سپرنگ میں جل رہے ہیں اور وہاں کے لوگوں کو اب ہوش آ رہا ہے کہ ہمیں کتنی بری طریقے سے استعمال کیا گیا موجودہ سوڈان سے محفوظ تھا لیکن اب سوڈان کے اندر بھی احتجاج شروع ہوچکے ہیں اور ان کے صدر بشار کا کہنا ہے کہ یہ سب کچھ یہودی لابی کی کوششوں سے ہو رہا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ دوبارہ سوڈان سے عرب سپرنگ کی شروعات کی جائے انہوں نے حال ہی میں شام کا دورہ کیا اور وہاں کے صدر سے ملاقات کی جس کے بعد انہوں نے قطر کا بھی دورہ کیا اور مصر کا بھی دورہ کیا اوروں کی حکمرانوں سے بات کی اور ان سے مدد مانگی اور ان ساتھ میں یہ بھی کہا کہ اگر سوڈان میں اس تحریک کو نہ روکا گیا تو بہت جلد یہ تحریک پورے عرب ممالک کو اپنے لپیٹ میں لے لے گی

You cannot copy content of this page