اسرائیل میں کیوں اسلحہ اتنا عام لے کر گھومتے ہیں ؟


اسرائیل دنیا کی وہ قوم ہیں جو کہ اپنی تعلیمات پر پوری طرح سے کاربند ہے اور اس وقت وہ پوری تیاری میں ہے کہ جب جنگ چھیڑ جائیں تو ان میں اتنی طاقت ہوگئ کسی بھی حالت کا سامنا کر سکے ناظرین سے دنیا میں یہودیوں کی تعداد 80 لاکھ ہے جس میں سے آدھی سے زیادہ تعداد اسرائیل میں آباد ہے یاد رہے کہ اسرائیل کی فوج اس وقت ڈیڑھ لاکھ ہے ایکٹیو ہے جبکہ ان کے افواج کی تعداد پانچ لاکھ سے زیادہ ہے اسرائیل میں 17 سال سے لے کر پچاس سال تک مردوں کو 3سال ٹریننگ سے گزارا جاتا ہے اور اگر کوئی باہر بھی جانا چاہیے تو اس کو تین سال کی ٹریننگ دینا ضروری ہوتی ہے یاد ہے اس وقت اسرائیل میں تقریبا 70 لاکھ سے زیادہ خواتین کو بیان کیا گیا ہے اور یہ مکمل فوجی ٹریننگ ہے اسرائیل کے اسکولوں میں باقاعدہ یہ ٹریننگ دی جاتی ہے کہ اسلحہ کیسے چلانا ہے اور ان کی باقاعدہ ذہن سازی کی جاتی ہے کہ ان کے دشمن کون ہے مطلب کے اسی لاکھ میں سے نصف آبادی ان کی مکمل طور پر تربیت یافتہ ہے اور اس کے ساتھ ساتھ وہاں پر بندوق رکھنے کا عام رواج ہے آپ ساحل سمندر پر جائیں آپ ہوٹل پر جائیں بازاروں میں گھوم جہاں بھی جائیے آپ کو ان کے لوگ ہتھیار بند نظر آئیں گے ایسا بالکل نہیں

جیسے ہمارے ملکوں میں ہوتا ہے کہ اگر کسی جگہ پر دہشت گرد حملہ کر دے تو پھر ہم اداروں کا انتظار کرے کہ وہ آئیں گے تو مر جائیں گے بلکہ وہاں پر خود لوگ ایسے موقع پر اپنی حفاظت کرنا اچھی طرح جانتے ہیںیاد رہے اسرائیل ایک زمانے میں عرب کے ساتھ جنگ لڑ چکا ہے ان کی حالت انتہائی خراب تھی ان کی معیشت بیو رہی تھیں لیکن اس دوران ان کی وزیراعظم نے امریکہ کے ساتھ اسلحہ خریدنے کا طرف ڈالر کا معاہدہ کیا اسے کہنا تھا کہ میں نے مسلمانوں کے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر ہے کہ آپ کے گھر میں کھانے کو کچھ نہیں تھا لیکن آپ کے گھر سے صرف ہتھیار ہی نکلےنظریں نہ کر دوسری طرف ہم اپنے ممالک کے اوپر نظر دوڑائیں تو یہاں پر ایسا کچھ بھی نہیں نہ ہی اس طرح کی کوئی ذہن سازی کی جاتی ہے تاکہ ہم خود کو مستقبل کے لئے تیار کرسکیں بلکہ ایسے لوگوں کو پابند سلاسل کیا جاتا ہے اور ان کو دہشت گرد قرار دیا جاتا ہےہماری بچت اسی میں ہے کہ ہم خود کو ذہنی جسمانی طور پر مضبوط کریں اور خود کو ہر طرح کے حالات کے لیے تیار کریں جیسے یہودی اس دنیا پر قبضہ کرنے کے لئے بھرپور تیاری کر رہا ہے

You cannot copy content of this page