عرب ملک میں کنواری مسلمان لڑکیاں 10ہزار روپے میں فروخت ہونے لگیں، لیکن اب خریدار داعش کے کارکن نہیں بلکہ۔۔۔ انہیں دھڑا دھڑ کون خرید رہا ہے؟ جان کر مسلمانوں کے واقعی ہوش اُڑجائیں گے


اہل شام کی بربادی کی داستان ایسی طویل ہوئی ہے کہ کسی طور اس کا انجام دکھائی نہیں دیتا۔ کہیں شدت پسند تنظیم داعش اور شامی حکومت کے درمیاں جنگ جاری ہے، کہیں باغی گروہ حکومتی افواج کے خلاف برسر پیکار ہیں اور کہیں بیرونی طاقتیں باغیوں اور داعش پر بم برسا رہی ہیں۔ ایسے میں شامی عوام، خصوصاً خواتین اور لڑکیوں کے لئے قیامت کا سماں ہے۔ پہلے داعش نے انہیں اپنی جنسی تسکین کا سامان بنا رکھا تھا تو اب غیر ملکی کرائے کے جنگجو چند روپوں کے عوض ان کی عزتوں سے کھیل رہے ہیں۔
میل آن لائن کے مطابق حال ہی میں یہ لرزہ خیز انکشافات سامنے آئے ہیں کہ روسی و شامی فوج کے ہمراہ جنگ میں شریک کرائے کے فوجی بھی اب داعش کے جنگجوؤں کی طرح کمسن شامی لڑکیاں خرید رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان فوجیوں کو کمسن اور کنواری لڑکیاں صرف 75 پاؤنڈ (تقریباً 10ہزار پاکستانی روپے) میں دستیاب ہیں۔
روس نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ یہ شام کی جنگ میں کرائے کے فوجی استعمال کررہا ہے، تاہم حال ہی میں داعش کی جانب سے یہ دعویٰ سامنے آیا کہ اس نے روس کے دو ایسے فوجی پکڑے ہیں، جن کے سرقلم کردئیے گئے۔ اسی طرح رپورٹ میں روسی فوج کے ایک سابقہ اہلکار کا بیان بھی شامل کیا گیا ہے، جس کا کہنا ہے کہ وہ کرائے کے فوجی کے طور پر شام میں داعش کے خلاف لڑتا رہا ہے۔ اس نے انکشاف کیا ہے کہ شام میں لڑنے والے کرائے کے فوجی اپنی جسمانی ضروریات پوری کرنے کیلئے نوعمر لڑکیوں کو خریدتے ہیں۔ یہ لڑکیاں انہیں 75 پاؤنڈ میں ایک سال کیلئے اور 1000 سے 1500 پاؤنڈ (ڈیڑھ سے سوا دو لاکھ پاکستانی روپے) میں زندگی بھر کیلئے مل جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایک اور روسی شہری نے بتایا کہ وہ اس سے پہلے یوکرین میں کرائے کے فوجی کے طورپر خدمات سرانجام دے رہا تھا اور اب شام میں یہی کام کررہا ہے۔ شامی دارالحکومت میں کرائے کے فوجیوں کی زندگی کے بارے میں بات کرتے ہوئے اس کا کہنا تھا ’’بعض اوقات ہم بوریت کا شکار ہوجاتے ہیں لیکن ہم جب چاہیں اپنے لئے لڑکی خرید سکتے ہیں۔ اچھے خاندان کی کنواری لڑکی ایک سال کیلئے 100 ڈالر (تقریباً 10ہزار پاکستانی روپے)میں مل جاتی ہے۔ا گر آپ اسے ہمیشہ کیلئے اپنے ساتھ رکھنا چاہیں تو اس کیلئے 1500 سے 2000 ڈالر ادا کرنا پڑتے ہیں۔ میں ایسے لوگوں کو بھی جانتا ہوں جو شام سے لڑکیاں خرید کر انہیں اپنے ساتھ روس لے گئے ہیں۔‘‘