میرے استاد نے مجھے ہوس کا نشانہ بنایا میری کہانی میری زبانی


وہ لڑکی جو کہ ایک اچھے گھرانے سے تعلق رکھتی تھی اور اس کا ماسڑاس کو اچھی نظر سے نہیں دیکھتا تھا ایک دن ماسڑ نے جان بوجھ کے لڑکی کو فیل کردیا واار اپنے قریب لانے کی کوشش کی لڑکی بہت ذہین تھی.اس نے سوچا کہ وہ جا کر پوچھے کہ اسکو فیل کیوں کیا کیوں کہ وہ بہت ذہین اور قابل لڑکی تھی جب لڑکی اپنے ماسڑ کے پاس گئی تو ماسڑ نے اس کے آگے شرط رکھ دی کہ وہ اس سے ہوم ٹیوشن لے اور میں تمہیں اچھی تیاری کرواکے پاس کردوں گا اچھے نومبروں سے لڑکی اگلے دن سے سوچ کے ہوم ٹیوشن کے لیے راضی ہوگئی اور اس نے ماسڑسے پڑھنا شروع کر دیا ماسڑ غیرشادی شدہ تھا اور اس کی عمر .

۲۵. سال تھی اسکا خون بھی گرم تھا اور لڑکی بھی جوان تھی .۲.ہفتے ہوم ٹیوشن پڑھنے کے بعد جب ماسڑ گھر پڑھانے آیا تو لڑکی اور اس کا چھوٹا بھائی گھر پہ اکیلے تھے اور کوئی نہیں تھا.

ماسڑ نے موکے کا فائدہ اٹھایا ور لڑکی کے قریب ہونے کی کوشش کی لڑکی گھبرا گئی اور یک دم سے پیچھے ہٹ گئی ماسڑ نے کہا کے گھبرائومت کچھ نہیں ہوتا کسی کو پتہ نہیں چلے گا لڑکی کو بہت پریشانی ہونے لگ گئی اور ماسڑسے دور ہونے کی کوشش کررہی تھی لڑکی کا چھوٹا بھائی ابھی صرف سات سال کا تھا اور سو رہا تھا ماسڑنے لڑکی کو پکڑا اور اسکو تشد کا نشانہ بنایا اور ان کے گھر سے فرار ہوگیا اس دن کے بعد وہ نظر نہیں آیا لڑکی کے گھر والوں نے اپنی عزت کی خاطر رپورٹ بھی نہیں کراوئی لیکن کچھ ذریعے سے پتہ چلا کے ماسڑ ملک چھوڑ کے بھاگ گیا ہوا ہے دستو آج کل کیس کا یقین کرنا یا کسی پہ بھروسہ کرنا بھی بہت مشکل ہوچکا ہے.

ہماری آپ سے گزارش ہے کہ اگر گھر پہ کوئی ماسڑرکھیں تو ان کے بارے میں ضرور پتہ کروائیں اور نظر رکھیں اور اپنے بچوں کو ماسڑسے اپنی موجودگی میں پڑھائیں

..

You cannot copy content of this page