لیبیا میں داعش کا کمانڈر گرفتار،تفتیش کی گئی تو اس کا تعلق کس ملک کی خفیہ ایجنسی سے نکلا؟جان کر پوری دنیا دنگ رہ گئی کیونکہ


شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کی تخلیق اور مبینہ فنڈنگ کے حوالے سے نت نئی باتیں مشہور کی جارہی ہیں جبکہ مسلم ممالک میں داعش کے نام پر خون کی ہولی بھی کھیلی جا رہی ہے، اسی دوران لیبیا میں داعش کا کمانڈر ابو الحفظ گرفتار کیا گیا جس کی گرفتار ی کے بعد اس نے حیرت انگیز انکشافات کئے ہیں. اسرائیلی ویب سائٹ ”ہبرو“ نے انکشاف کیا ہے کہ لیبیا میں سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں گرفتا رہونے والے داعش کے کمانڈر ابولحفظ کا ا صل نام بنجامن ایفرام ہے اور وہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے اسپیشل یونٹ سے تعلق رکھتا ہے.

بنجامن ایفرام2011ءمیں خصوصی مشن پر لیبیا گیا تھا اور اس نے معمر قذافی کے خلاف شروع کی جانے والی تحریک میں بھی کردار ادا کیا تھا، ویب سائٹ کے مطابق موساد کا ایجنٹ عربی شکل و شبہات اور لب و لہجے کی وجہ سے عرب ممالک میں آسانی سے سفر کر رہا تھا ، بنجامن اپنے اثر و رسوخ کی بنیاد پر لیبیا کے شہر بن غازی کی سب سے بڑی مسجد میں امام بن گیا ، بن غازی لیبیا کا دوسرا بڑا شہر ہے. اسرائیلی ایجنٹ نے بطور داعش کمانڈر دو سو سے زائد نوجوانوں کو جنگی تربیت دی اور سرکاری املاک اور فورسز پر حملے کی منصوبہ بندیاں بھی کیں. اسرائیلی ایجنٹ کو لیبیا میں ابو حفظ کے نام سے جانا جاتا تھا جسے موساد اور داعش کے مبینہ تعلقات کے حوالے سے خفیہ اطلاعات کے بعد گرفتار کیا گیا. ویب سائٹ کے مطابق اسرائیلی کمانڈر کی گرفتاری کے بعد عرب ممالک کے ان الزامات کو تقویت ملی ہے جس میںان کا الزام ہے کہ دولت اسلامیہ کی تخلیق کے پیچھے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کا ہاتھ ہے.
..

You cannot copy content of this page