برما میں روہنگیا مسلمان بچوں کے سرقلم کرکے لاشوں کو آگ لگائے جانے کا انکشاف


مقبول خبریں

دریا میں چھلانگ لگانیوالاکہاں پہنچ چکا تھا ؟ افسوسناک خبر آگئی
ماضی کی انتہائی خوبصورت اداکارہ بابرہ بابرہ شریف محمد شریف کی بیٹی اور کس معروف اینکر پرسن کی والدہ ہیں ؟
گلالئی پر بدترین وحشیانہ تشدد
شادی سے قبل معروف اینکر پرسن مہر بخاری نے ملک ریاض سے کیا کام کروایا ؟ ثنا بُچہ ،عاصمہ شیرازی کا ملک ریاض سے کیا تعلق ہے ؟ تہلکہ خیز انکشاف
خاتون رہنما نے پاکستان تحریک انصاف میں واپسی کااعلان کر ڈالا۔۔۔ہر کوئی چونک اٹھا
اداکارہ سجل علی کی نازیبا تصویر منظر عام پر ۔۔
فہد مصطفی کے شو کی روح رواں فبیہہ شیراز ی کو تو آپ نے دیکھا ہی ہو گا ،یہ در اصل کس شہر کی رہائشی ہیں اور تنخواہ کتنی ہے ؟جواب جان کر آپ کو بھی بے حد حیرت ہو گی
’’ تصویریں بولتی ہیں ‘‘عمران خان کے ساتھ اس تصویر میں نظر آنے والی لڑکی کون ہے اور دونوں کہاں داخل ہو رہے ہیں؟
یہ شخص کون ہے ، کہاں رہتا ہے ؟ اور کون سی حکومتی شخصیت اسے گرفتار نہیں ہونے دے رہی تھی ؟ تہلکہ خیز انکشاف
حضرت بلال اور اجوا کھجور کا واقع انتہائی دلچسپ
ہمارا فیس بک پیج

شیئر کریں
برما میں روہنگیا مسلمان بچوں کے سرقلم کرکے لاشوں کو آگ لگائے جانے کا انکشاف

برمی افواج اور بدھ مت کے شدت پسندوں سے تنگ آکر بنگلا دیش کی جانب فرار ہونے والے روہنگیا مسلمان بچوں کے سرقلم اور زندہ جلانے کے کئی واقعات سامنے آئے ہیں۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق اس بات کا انکشاف عینی شاہدین نے کیا ہے۔دیگر ذرائع کے مطابق برما کی سرکاری افواج اوردیگر فورسز کی جانب سے مشرقی ریاست راکھین میں مسلمانوں کی نسل کشی جاری ہے جہاں نہتے اور بے بس مسلمان ملک کی ایک اقلیت میں شمار ہوتے ہیں۔

راکھین کی سرحد بنگلہ دیش سے ملتی ہے اور ظلم و ستم سے تنگ آکر اب تک 60 ہزار سے زائد افراد بنگلہ دیش کی سرحد تک پہنچ گئے ہیں۔دوسری جانب روہنگیا مسلمانوں نے ریاستی جبر کے خلاف مزاحمت بھی شروع کردی ہے اور برمی افواج نے ایسے 400 مزاحمت کار ہلاک کرنے کا دعوی کیا ہے لیکن درحقیقت مرنے والوں میں عام شہریوں اور بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔برطانوی اخبار دی انڈیپینڈنٹ کے مطابق برمی افواج کے تشدد اور ظلم سے بچنے والے افراد نے ہولناک داستانیں بیان کی ہیں۔ 41 سالہ عبدالرحمان نے بتایا کہ اس کے گان چوٹ پیون پر پانچ گھنٹے تک مسلسل حملہ کیا گیا۔ روہنگیا مردوں کو گھیر کر ایک جھونپڑی میں لے جایا گیا اور انہیں دائرے میں بٹھا کر آگ لگائی گئی جس میں عبدالرحمان کا بھائی بھی مارا گیا۔عبدالرحمان نے ایک ہولناک واقعہ بتایا کہ میرے دو بھتیجوں جن کی عمریں چھ اور نو برس تھیں، ان کے سر کاٹے گئے اور میری سالی کو گولی ماردی گئی۔
ہم نے بہت سی جلی، کٹی اور سوختہ لاشیں دیکھی گئیں جنہیں بے دردی سے مارا گیا تھا۔27 سالہ سلطان احمد نے بتایا کہ بعض لوگوں کے سرقلم کردئیے گئے اور انہیں بے دردی سے کاٹا گیا اور میں اپنے گھرمیں چھپا تھا۔ اس کی اطلاع پاتے ہی مکان کے عقب سے فرار ہوگیا۔ دیگر گاں میں بھی گلے کاٹنے اور ذبح کرنے کے واقعات نوٹ کئے گئے ہیں۔ان تمام واقعات کو ایک غیرسرکاری تنظیم فورٹیفائی رائٹس نے بیان کیا ہے۔

اس کے علاوہ سیٹلائٹ تصاویر سے عیاں ہے کہ ایک علاقے میں کم ازکم 700 گھروں کو نذرِ آتش کیا گیا ہے جس کے بعد لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔ہیومن رائٹس واچ ایشیا کے سربراہ فِل رابرٹسن نے کہا کہ سیٹلائٹ تصاویر سے مسلم آبادی کی تباہی ظاہر ہے جو خود ہماری توقعات سے بھی بڑھ کر ہے۔ اب تک ہم نے 17 ایسے مقامات دریافت کئے ہیں جہاں آگ لگائی گئی ہے لیکن ضرورت ہے کہ فوری طور پر وہاں لوگوں کو بھیج کر صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔
واضح رہے کہ آج سے ایک سال قبل دنیا بھر کے کئی نوبیل انعام یافتہ افراد اور ممتازشخصیات نے ایک کھلے خط کے تحت اقوامِ متحدہ اور دیگر اداروں سے روہنگیا مسلمانوں کے تحفظ کی اپیل کی تھی۔

ہفتے کے روز برطانوی وزیرِخارجہ بورس جانسن نے آنگ سان سوچی سے کہا ہے کہ وہ اس المیے کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کریں۔ دوسری جانب اسلامی ممالک میں ترکی پیش پیش ہے اور ترک وزیرِ خارجہ میولود چاوش اولو نے بنگلہ دیش سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنی سرحدیں روہنگیا پناہ گزینوں کے لیے کھول دے اور اس کے اخراجات ترک حکومت ادا کرے گی۔

You cannot copy content of this page