مجھےمیری نوجوان بھتیجی مشکوک نظر آرہی تھی


پنی نوعمر بھتیجی کی مشکوک سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لئے ایک خاتون نے مرد کے نام سے فیس بک اکاؤنٹ بناکر اس سے دوستی کرلی، مگر جلد ہی ایک ایسا انکشاف ہو گیا کہ بیچاری خاتون کے پاؤں تلے سے زمین ہی نکل گئی. یہ ناہنجار بھتیجی اپنی آنٹی کے قتل کا منصوبہ بنائے بیٹھی تھی.

دی مرر کی رپورٹ کے مطابق پیٹر اولیمز نامی خاتون نے یہ حیران کن انکشاف چینل 4 کی ڈاکومنٹری ’مائی آن لائن نائٹ میئر‘ میں کیا. پیٹرا نے بتایا کہ ان کی 19 سالہ بھتیجی مریسا ولیمز کی حرکات مشکوک دیکھ کر انہوں نے اس پر نظر رکھنے کے لئے ایک مرد کے نام سے جعلی فیس بک اکاؤنٹ بنایا اور اس سے دوستی کرنے میں کامیاب ہو گئیں. پیٹرا کے مطابق مریسا ان کے پاس ہی رہتی تھی لیکن وہ ناشکری اور جھگڑالو تھی اور کچھ دنوں سے بہت ہنگامہ کرنے لگی تھی. وہ جاننا چاہتی تھیں کہ اس کے ذہن میں کیا چل رہا ہے، لہٰذا سوشل میڈیا پر اپنی شناخت چھپا کر اس سے دوستی کر لی.

پیٹرا نے بتایا کہ جلد ہی مریسا نے فیس بک پر ان سے دوستی پکی کرلی اور دونوں کے درمیان میسجز کا تبادلہ ہونے لگا. وہ اکثر بتاتی تھی کہ اپنی آنٹی کے گھرمیں اس کی زندگی بہت مشکلات کا شکار ہے اور وہ اپنے حالات سے بالکل بھی خوش نہیں. ایک موقع پر وہ اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہنے لگی ”میں یہاں خود کو قید محسوس کرتی ہوں. مجھے لگتا ہے کہ میری آنٹی مجھے تم سے ملنے نہیں دے گی. میں تو چاہتی ہوں تم اس کی عصمت دری کردو. مجھے یہاں سے کسی طرح نکالو. مجھے اس سے سخت نفرت ہے. میں یہاں سب لوگوں سے نفرت کرتی ہوں. ہمارے ملنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ تم میرے گھر آؤ اور میری آنٹی کو قتل کردو.پیٹرا نے بتایا کہ انہیں یقین نہیں آرہاتھا کہ یہ ان کی بھانجی ہی تھی جو ان کے خلاف ایسی خوفناک باتیں کہہ رہی تھی. ”وہ مجھے اپنا نوجوان دوست سمجھ کر وہ سب کچھ کہہ رہی تھی جو اس نے اپنے دل میں چھپارکھا تھا. وہ صرف مجھے ہی نہیں بلکہ میرے تمام گھر والوں اور حتیٰ کہ پالتو کتے کو بھی مروانا چاہتی تھی. وہ میرے قتل کے بارے میں اس قدر سنجیدہ تھی کہ اس نے یہ بھی بتایا کہ میرے بیڈ روم میں کس طرح داخل ہوا جاسکتا ہے اور کونسا وقت مجھے قتل کرنے کے لئے مناسب ہوگا. مجھے اپنی سانس رکتی ہوئی محسوس ہوئی اور میں نے فوری طور پر 911پر کال کردی.“ پیٹرا نے بتایا کہ ان کی شکایت پر مریسا کو گرفتارتو کیا گیا لیکن پروبیشن کے دوران وہ فرار ہوگئی اور تاحال مفرور ہے.

You cannot copy content of this page