سابقہ بھابھی کا نیا دھماکہ؟


برطانوی اخبار ”ڈیلی میل“ کے مطابق پاکستانی قوم کی سابقہ بھابی ریحام خان اپنی ایک دھماکہ خیز کتاب جلد مارکیٹ میں لانے والی ہیں. یہ پوری کی پوری کتاب ان کے سابقہ شوہر عمران خان پر ہو گی.

یہ متوقع کتاب شائع کرنے کا پلان پاکستان کے آئندہ عام انتخابات سے ذرا پہلے کا تھا لیکن اب شاید پاکستان کے حالیہ سیاسی حالات کے تناظر میں آنے والے چند ہفتوں میں یہ کتاب منظرعام پرآ جائے گی. پس پردہ ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ ریحام خان کا دعویٰ ہے کہ وہ اس کتاب میں اپنی شادی کے دس ماہ کا احاطہ کرتے ہوئے بتائیں گی کہ WHAT IS THE REAL IMRAN KHAN. ریحام خان کے مطابق وہ ایسے حقائق اور سچائیاں بھی عوام کے سامنے لائیں گی جن کے بارے میں آج تک کسی کو علم نہیں. اب ریحام کا یہ دعویٰ کس قدر سچا ہے یہ تو کتاب کی اشاعت کے بعد عمران خان خود ہی بتا سکتے ہیں لیکن مذکورہ کتاب کی عجلت میں متوقع آمد کے پیچھے کس کا ہاتھ ہو سکتا ہے‘ اس سوال کے جواب تک پہنچنا زیادہ مشکل کام نہیں ہے یقینا عمران خان کے سیاسی مخالفین یہ ”سنہری موقع“ ہاتھ سے جانے نہیں دیں گے. ملک میں الزامات اور ایک دوسرے کی کردارکشی کی منفی سیاست کا جو رجحان برسوں سے چلتا آ رہا ہے اسے سامنے رکھتے ہوئے کوئی بعید نہیں کہ سیاسی مخالفت میں متحارب گروپ اخلاقیات کی بھی دھجیاں اڑائیں گے اور قومی اقدار کا بھی تماشا بنائیں گے. نوازشریف کی نااہلی کے بعد پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان رہی سہی اخلاقی قدریں بھی ختم ہو چکی ہیں اور ایک دوسرے کی کردارکشی کا ”جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے.“ دونوں جماعتیں سیاسی مخالفت سے بہت آگے جا کر ایک دوسرے پر حملہ آور ہو رہی ہیں. تحریک انصاف کی ”ایم این اے“ عائشہ گلالئی کے عمران خان پر الزامات کے بعد اب خواتین کو مہرہ بنانے کی ایک قبیح رسم ”پاپولر گیم“ بن چکی ہے.

اگلے چند ہفتوں میں جہاں ریحام خان سامنے آئیں گی وہاں تحریک انصاف کے جلو میں بیٹھی پریس کانفرنس کر رہی عائشہ احد بھی ”مارکیٹ“ میں جلوہ گر ہو چکی ہیں. ان کا دعویٰ ہے کہ وہ وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کے بیٹے حمزہ شہباز کی بیوی ہیں اور انہیں طلاق بھی نہیں ہوئی. رواں سال کے شروع میں میری ان سے لندن میں ملاقات ہو چکی ہے. وہ اپنے طور پر حمزہ شہباز سے شادی کے بڑے ہوشربا قصے سناتی ہیں. نوازشریف لندن آئے تو عائشہ احد پارک لین والے ان کے فلیٹس کے باہر کھڑی رہتی تھیں تاکہ وہ میاں نوازشریف اور کلثوم نواز صاحبہ سے مل کر ”انصاف“ کا تقاضا کر سکیں. اب شاید ”تحریک انصاف“ انہیں انصاف دلوا سکے!! ریحام خان کی متوقع کتاب ”میں ہوں ریحام خان‘ تھی لیکن شاید وہ کتاب جو 272صفحات پر مشتمل تھی اور اسے میرے ایک صحافی دوست مبین رشید نے ترتیب دیا تھا اب مارکیٹ میں نہ آ سکے کیونکہ خبر یہ ہے کہ اب جو کتاب شائع ہو گی اس کی نوک پلک بھی ایک حکومتی ادارے کے چیئرمین ہی سنوار رہے ہیں اور ریحام خان کی مشاورت سے اس کتاب کا ”مناسب میک اپ“ کرنے میں مصروف ہیں تاکہ 10مہینوں کی رفاقت کی اس روداد کا ایک ایک لفظ زہرآشام اور قہر و غضب میں ڈوبا ہو. یہ کتاب گزشتہ ایک سال سے تیاری کے مراحل میں ہے اور بس ”مناسب موقع“ کا انتظار کیا جا رہا ہے اور یہ گولڈن چانس یقینا شاید یہی ہے اور قرآئن بتاتے ہیں کہ قوم کی سابقہ بھابی کا یہ شاہکار جلد اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ سامنے آئے گا جس میں بعض حقائق اور سچائیاں انتہائی تلخ و غضب ناک طریقے سے سر اٹھائیں گی جن کے درست و غلط ہونے کو چیلنج کرنا عمران خان کا حق ہو گا. نومبر 2015ءکو عمران خان اور ریحام خان کی شادی کے صرف دس ہی مہینے بعد غیرمتوقع طلاق کی خبریں آئیں تو اس وقت ریحام خان لندن میں تھیں. فون پر میری ان سے طویل گفتگو ہوئی. وہ انتہائی افسردگی کے ساتھ حیران تھیں کہ یکدم یہ کیا ہوا کہ عمران خان نے صرف ایک ٹیکسٹ میسج کے ذریعے انہیں طلاق کی اطلاع دی. میرے ذاتی علم میں ہے کہ طلاق کی خبروں کے ساتھ ہی بعض برطانوی میڈیا ہاﺅسز نے ریحام خان کو لاکھوں پاﺅنڈ کی آفرز کی تھیں کتاب لکھنے کیلئے. ریحام خان نے ان دنوں برطانوی میڈیا کو جو انٹرویوز دیئے ان کے مطابق عمران خان کے ساتھ انہوں نے دس مہینے بڑے کرب و تکلیف میں گزارے اور ان کی شادی شاید کالے جادو کاشکار ہوئی ہے اور ان کے خلاف کوئی گہری سازش کر رہا تھا. ریحام کو دکھ تھا ان پر برطانوی خفیہ ایجنسی ”ایم آئی سکس“ کی ایجنٹ اور عمران خان کو چوہے مار زہر دینے کا الزام لگایا گیا. انہوں نے کہا شادی کے بعد مجھے جلد ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ ہم دونوں الگ الگ شخصیتوں کے مالک ہیں. میں خاصی باتونی ہوں لیکن عمران خان کو سیاست کے سوا کوئی بات اچھی نہیں لگتی. وہ رومینٹک بھی نہیں‘ آپ ان سے گھر کے مسائل‘ فرنیچر کے ڈیزائن‘ پردوں کے رنگ وغیرہ پر گفتگو نہیں کر سکتے. وہ میرے تینوں بچوں سے بھی نالاں تھے. فلم‘ ڈرامہ کی گفتگو سے بھی ان کا دور تک تعلق نہیں تھا. انہوں نے مجھے کبھی کوئی تحفہ نہیں دیا تھا حتیٰ کہ شادی کی رنگ بھی نہیں. گھر میں آنے والے مہمانوں کی مہمان نوازی تک نہیں کی جاتی تھی. تحریک انصاف کے دیگر لیڈر بھی مجھ سے نالاں تھے اور چاہتے تھے کہ میں صرف گھر کی چاردیواری اور کچن تک محدود رہوں. اپنے انٹرویوز میں ریحام نے یہ بھی بتایا کہ میرے کوئی حقوق نہیں تھے. ان دس ماہ میں ہماری شادی پاکستان میں اور نہ برطانیہ میں رجسٹرڈ ہو سکی‘ اس لئے طلاق کے بعد بھی میرا کوئی حق نہیں تھا. طلاق سے دو مہینے پہلے جب میں اور عمران خان چھٹیوں پر بیرون ملک تھے تو میڈیا میں ہماری طلاق کی خبریں شائع ہوئیں. میں نے عمران خان سے پوچھا انہیں یہ خبریں کون دے رہا ہے تو انہوں نے کہا فکر نہ کرو جمائما اور میری طلاق کی خبریں بھی میڈیا اسی طرح چلاتا تھا لیکن دو ماہ بعد ہی مجھے انکشاف ہو گیا کہ پارٹی کے اندر بہت سے لوگوں کو علم تھا کہ عمران خان مجھے طلاق دینے والے ہیں. ریحام خان میڈیا کو یہ بھی بتا چکی ہیں کہ ہماری شادی پہلے ہو چکی تھی لیکن بوجوہ اسے منظرعام پر نہیں لایا گیا اسی لئے دنیا کو دکھانے کیلئے دوبارہ نکاح ہوا. ہو سکتا ہے ریحام خان کی متوقع کتاب میں اوپر ذکر کی گئی باتیں بھی موجود ہوں لیکن ایک بات طے ہے کہ آنے والے چند ہفتوں میں افسوسناک حد تک پاکستان کی سیاست میں بڑے بڑے انکشافات ہوں گے.

عائشہ گلالئی‘ عائشہ احد‘ ریحام خان اور اب سیمل کامران کے علاوہ مزید کئی خواتین‘ تصویریں اور غیراخلاقی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا کے ذریعے عام ہوں گی. سوقیانہ‘ عامیانہ اور بازاری زبان کے استعمال کا ایک طوفان ملک کے طول و عرض میں اٹھے گا جو معاشرے کی باقی ماندہ اخلاقی قدروں کو بھی بہا لے جائے گا. کئی سابقہ اور حالیہ بھابیاں خلوت کی باتوں اور اچھے دنوں کی یادوں کو سربازار نیلام کریں گی‘ کروڑوں اور اربوں روپے کی رقوم کا لین دین ہو گا‘ ایمان و یقین کی بولیاں لگیں گی‘ سیاستدانوں کی ایک دوسرے کے خلاف کردارکشی کا سورج نصف النہار پر ہو گا. ابھی سے کہا جا رہا ہے کہ مسلم لیگ کی طرف سے ریحام خان کو منہ مانگا انعام دیا جا رہا ہے اور دوسری طرف عائشہ احد کی انٹری کیلئے تحریک انصاف نے انتھک کوششیں کیں اور انہیں اپنی چھتر چھایہ میں لے کر کاﺅنٹر اٹیک کی تیاری کر لی ہے. گفتگو جاری ہے کہ ریحام خان کو یہ گاڑیاں‘ یہ بنگلہ وغیرہ کس نے دیا ہے؟ سوشل میڈیا نے یہ نوید بھی دی ہے کہ عمران خان کی مبینہ بیٹی ٹیریان کو بھی اس ”سیاسی گند“ میں گھسیٹنے کیلئے ملینز پاﺅنڈ کی پیشکشیں کی جا رہی ہیں. لوگوں کے کردار پر وار کر کے سیاسی جنگ جیتنے کی یہ روش بحیثیت مجموعی پوری قوم کی اخلاقی باختگی پر منتج ہو گی. ایک انگریزی کہاوت کے مطابق اگر مال و دولت کا نقصان ہو جائے تو کوئی بات نہیں‘ اسے دوبارہ بھی حاصل کیا جا سکتا ہے‘ اگر صحت خراب ہوجائے تو اس کی بحالی بھی ممکن ہے لیکن اگر کردار چلا جائے تو سمجھو سب کچھ ختم ہو گیا‘ لہٰذا پاکستان کی حکومت و ریاست اپنے عوام سمیت اسی منزل کی طرف رواں ہے.