’جن خواتین کے چہرے چوڑے ہوں اُن کو اِس ایک چیز کی شدید بھوک ہوتی ہے‘ جدید تحقیق میں سائنسدانوں نے ایسا انکشاف کر دیا کہ جان کر ڈھیرو پاکستانی مرد شدید پریشان ہو جائیں گے


ماہرین کے مطابق چہرے کے عوارض انسان کی نفسیات کی بھی عکاسی کرتے ہیں اور اب سائنسدانوں نے چوڑے چہرے والی خواتین کے متعلق ایسا انکشاف کر دیا ہے کہ کبھی کسی نے سوچا بھی نہ ہو گا۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق جرمنی کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ”جرمن چانسلر انجیلا مرکل، ہیلری کلنٹن اور برطانوی گلوکارہ صوفی ایلیس بیکسٹر کے جیسی چوڑے چہرے والی خواتین کی فطرت میں ’طاقت کے حصول‘ اور غلبے کی بھوک بدرجہ اتم موجود ہوتی ہے اور یہی بھوک زندگی میں ان کی کامیابی کے امکانات میں اضافہ کرتی ہے۔“

جرمنی کی فریڈرک الیگزینڈر یونیورسٹی کے ماہرین نفسیات کی ٹیم نے سن بلوغت کو پہنچتی لڑکیوں کی جسمانی بڑھوتری اور دماغی نشوونما پر ہارمونز کے اثرات جاننے کے لیے یہ تحقیق کی اور یہ معلوم کرنے کی کوشش کی کہ سن بلوغت کو پہنچتی لڑکیوں کے ہارمونز میں مختلف تبدیلیاں ان کے چہرے کی ہڈیوں کی ساخت اور روئیے و تحریک سے منسلک دماغ کے حصوں پر کس طرح اثرانداز ہوتی ہیں۔انہوں نے درجنوں لڑکیوں کے چہرے کی لمبائی اور چوڑائی کی پیمائش کی اور دائیں و بائیں رخساروں اور اوپری ہونٹ اور ماتھے کے درمیان فاصلے کی شرح جانچی، اور ان کی دماغی صلاحیتوں اور ان میں غلبے کی خواہش کا اندازہ لگایا۔

نتائج میں معلوم ہوا کہ جن لڑکیوں کے دونوں رخساروں اور اوپری ہونٹ اور ماتھے کے درمیان زیادہ فاصلہ تھا ان میں طاقت کے حصول اور غلبے کی خواہش بہت زیادہ تھی۔ اس کے برعکس جن خواتین میں یہ فاصلہ کم تھاان کا رویہ بہت زیادہ نسوانی تھا۔تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ پروفیسر کیوین جانسن کا کہنا تھا کہ ”ہماری تحقیق کے مطابق سن بلوغت کو پہنچتی جن لڑکیوں میں ہارمونز زیادہ مقدار میں پیدا ہوں ان کا چہرہ چوڑا ہوتا ہے اور ان کے دماغ کے وہ حصے زیادہ متحرک ہوتے ہیں جو غلبے کی خواہش کے لیے کام کرتے ہیں۔ جرمن چانسلر انجیلا مرکل اور سابق برطانوی وزیراعظم مارگریٹ تھیچر اس کی بہت اچھی مثالیں ہیں۔

You cannot copy content of this page