ایک جفا کش شخص کی کہانی


والدین اپنے بچوں کیلئے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں، اور بھارتی شہری ادریس سے بہتر اس کی کیا مثال ہوگی جنہوں نے اپنی تین بیٹیوں کو معاشرے کی نفرت اور شرمندگی سے بچانے کیلئے انہیں تمام عمر نہیں بتایا کہ وہ کیا کام کرتے ہیں۔ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق ادریس نے بتایا ”میں نے اپنی آمدنی کی ایک ایک پائی اپنی بیٹیوں کی تعلیم پر لگائی۔ میں نے ہمیشہ نیا لباس خریدنے کی بجائے ان کیلئے کتابیں خریدیں کیونکہ میں چاہتا تھا

کہ وہ عزت کی زندگی گزاریں۔ میں نے اپنی بیٹیوں سے یہ بات ہمیشہ خفیہ رکھی کہ میں ایک خاکروب تھا تا کہ وہ کبھی کسی کے سامنے شرمندہ نہ ہوں۔ میں گھر جانے سے پہلے کسی پبلک ٹوائلٹ میں غسل کیا کرتا تھا اور صاف ستھرا ہوکر گھر جایا کرتا تھا۔ میں انہیں اعلیٰ تعلیم دلوانا چاہتا تھا اور میں نے اپنا ایک ایک روپیہ ان کی تعلیم پر لگایا۔ک بار جب میرے پاس اپنی چھوٹی بیٹی کے کالج میں داخلے کیلئے رقم نہیں تھی تو میں بہت غمزدہ تھا۔ جب میرے ساتھیوں نے مجھے کوڑے کے ڈھیر کے پاس بیٹھ کر آنسو بہاتے دیکھا تو وہ سب میرے پاس آگئے۔ انہیں میرے رونے کی وجہ معلوم ہوئی تو کہنے لگے ’کیا تم ہمیں اپنا بھائی نہیں سمجھتے ہو؟‘ اس کے بعد ان سب نے اس دن کی مزدوری میرے ہاتھ پر رکھ دی۔ ۔

اب میری سب سے چھوٹی بیٹی کی بھی یونیورسٹی کی تعلیم مکمل ہونے والی ہے۔ اب وہ اکثر کھانا لے کر میرے ساتھیوں کے پاس جاتی ہے۔ وہ ان سے کہتی ہے کہ ’آپ لوگوں نے میری کالج کی فیس ادا کی تھی جسے میں کبھی بھی بھول نہیں سکتی۔‘میری بیٹیوں نے کامیابی سے اچھی تعلیم حاصل کی اور اب مجھے محسوس نہیں ہوتا کہ میں ایک غریب آدمی ہوں۔ اتنی اچھی اولاد کا باپ ہوتے ہوئے کوئی کیوں خود کو غریب محسوس کرے گا۔“